الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں گائے کے گوشت کے شبہے پر گاڑی ضبط کیے جانے کے ایک معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف شک کی بنیاد پر کسی شہری کی گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب تک کسی مجاز لیبارٹری سے سائنسی طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ برآمد گوشت واقعی گائے کا ہے، اس وقت تک ایسی کارروائی آئینی اصولوں کے خلاف مانی جائے گی۔
یہ فیصلہ باغپت کے رہائشی محمد چاند کی عرضی پر دیا گیا، جن کی گاڑی کو اکتوبر 2024 میں پولیس نے ممنوعہ گوشت لے جانے کے شبہے میں ضبط کر لیا تھا۔ بعد میں ضلع مجسٹریٹ نے بھی گاڑی ضبط رکھنے کا حکم جاری رکھا، جس کے خلاف محمد چاند نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
سماعت کے دوران جسٹس سندیپ جین نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بغیر پختہ ثبوت کسی شخص کی روزی روٹی چھین لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ویٹنری رپورٹ میں بھی گوشت کے گائے کا ہونے کی حتمی تصدیق نہیں تھی، بلکہ صرف شبہ ظاہر کیا گیا تھا، جو قانونی کارروائی کے لیے کافی نہیں۔
عدالت نے ’اتر پردیش انسداد گاؤ ذبیحہ قانون 1955‘ کی دفعہ 5-اے(6) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ضبطی یا سخت کارروائی کے لیے مجاز لیبارٹری کی رپورٹ ضروری ہے۔ چونکہ اس معاملے میں ایسی کوئی واضح رپورٹ موجود نہیں تھی، اس لیے پوری کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔
ہائی کورٹ نے حکومت کی کارروائی کو من مانی قرار دیتے ہوئے ریاستی حکومت پر 2 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا اور حکم دیا کہ یہ رقم سات دن کے اندر عرضی گزار کو بطور ہرجانہ ادا کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت چاہے تو یہ رقم ذمہ دار افسران سے وصول کر سکتی ہے۔
ساتھ ہی عدالت نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ محمد چاند کی گاڑی تین دن کے اندر فوری طور پر واپس کی جائے، کیونکہ یہی ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھی اور گزشتہ 18 ماہ سے گاڑی بند رہنے کے باعث انہیں شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
