اترپردیش میں شروع ہونے والے گنگا ایکسپریس وے پر سفر اب تیز ضرور ہوگا، لیکن مسافروں کو اس کے لیے زیادہ ٹول بھی ادا کرنا پڑے گا۔ 594 کلومیٹر طویل اس ایکسپریس وے پر میرٹھ سے پریاگ راج تک مکمل سفر کرنے والوں کے لیے ٹول کی نئی شرحیں جاری کر دی گئی ہیں، جنہیں ریاست کا سب سے مہنگا ٹول قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے 29 اپریل کو اس ایکسپریس وے کا افتتاح کیا۔ اس منصوبے کے آغاز کے بعد مغربی اور مشرقی اترپردیش کے درمیان سفر کا وقت کافی کم ہو جائے گا، تاہم ٹول چارجز نے عام لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق دو پہیہ، تین پہیہ گاڑیوں اور رجسٹرڈ ٹریکٹر چلانے والوں کو مکمل سفر کے لیے 905 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ کار، جیپ، وین اور دیگر ہلکی نجی گاڑیوں کے لیے ٹول 1800 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح ہلکی کمرشیل اور مال بردار گاڑیوں کے لیے 2840 روپے، بس اور ٹرک کے لیے 5270 روپے، بھاری تعمیراتی مشینری اور ملٹی ایکسل گاڑیوں کے لیے 8760 روپے جبکہ سات یا اس سے زیادہ ایکسل والی بڑی گاڑیوں کے لیے 11265 روپے تک ٹول طے کیا گیا ہے۔
یہ تمام ادائیگیاں فاسٹ ٹیگ کے ذریعے خودکار طریقے سے وصول کی جائیں گی۔ ایکسپریس وے پر مجموعی طور پر 14 ٹول پلازے قائم کیے گئے ہیں، جن میں دو مرکزی ٹول پلازے میرٹھ اور پریاگ راج میں ہیں، جبکہ باقی داخلی اور خارجی راستوں پر بنائے گئے ہیں۔
اس ایکسپریس وے کے شروع ہونے سے پہلے میرٹھ سے پریاگ راج کا سفر عام سڑکوں کے ذریعے 10 سے 12 گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لیتا تھا، لیکن اب 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے یہی سفر صرف 6 سے 7 گھنٹوں میں مکمل کیا جا سکے گا۔
گنگا ایکسپریس وے کو ملک کا سب سے طویل گرین فیلڈ ایکسپریس وے بھی کہا جا رہا ہے، جو گنگا ندی کے متوازی تعمیر کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے تجارت، سیاحت اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار ملے گی اور اترپردیش کو ’ایکسپریس وے پردیش‘ بنانے کے خواب کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔
