انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے قریب بیکاسی تیمور اسٹیشن پر پیش آئے ایک خوفناک ٹرین حادثے میں 14 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ درجنوں مسافر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پیر کی شب جکارتہ کے مضافاتی علاقے میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ’آرگو برومو اینگرینک‘ نامی طویل فاصلے کی ٹرین نے اسٹیشن پر کھڑی ایک کمیوٹر ٹرین کے آخری ڈبے کو پیچھے سے زور دار ٹکر مار دی۔ٹکر اتنی شدید تھی کہ کئی ڈبے بری طرح تباہ ہو گئے اور متعدد مسافر اندر ہی پھنس گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جنگی پیمانے پر راحت رسانی کا کام شروع کیا اور زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔|
VIDEO | The death toll from an overnight collision between two passenger trains outside Jakarta in Indonesia has doubled to 14, the state-owned KAI rail company said on Tuesday.
14 people have been confirmed dead, and another 84 people received hospital treatment.
(Source:… pic.twitter.com/BBf1PuT0dL
— Press Trust of India (@PTI_News) April 28, 2026
سرکاری ریلوے کمپنی پی ٹی کیریٹا آپی انڈونیشیا کے مطابق 38 زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا آخری کوچ خواتین کے لیے مخصوص تھا، جہاں خواتین کو تحفظ کے پیش نظر الگ سفر کی سہولت دی جاتی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے فوراً بعد اسٹیشن پر چیخ و پکار، بھگدڑ اور خوفناک مناظر دیکھنے کو ملے۔ لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے میں پھنسے مسافروں کو نکالنے میں مصروف رہیں۔
At least 14 people have been killed and more than 80 others injured after two passenger trains collided near Jakarta. Authorities say one of the trains may have stopped after being struck by a taxi, and an investigation is underway.
Al Jazeera's Caley Callahan reports. pic.twitter.com/ULNzfNSSCP
— Al Jazeera English (@AJEnglish) April 28, 2026
خوش آئند بات یہ رہی کہ آرگو برومو اینگرینک ٹرین میں سوار تمام 240 مسافر محفوظ رہے۔ جکارتہ پولیس سربراہ آصف اے ڈی سہیری نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔سرکاری ریلوے کمپنی نے اس افسوسناک حادثے پر عوام سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی حادثے کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں خوفزدہ مسافر اور اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں سرگرداں افراد دکھائی دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ انڈونیشیا میں پرانے ریلوے نظام کی وجہ سے اس طرح کے حادثات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جس کے بعد ایک بار پھر ریلوے حفاظت کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
