مہاراشٹر میں آٹو رکشہ ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان لازمی قرار دینے کے فیصلے نے ریاست میں نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ریاستی وزیر پرتاپ سرنائک نے اعلان کیا ہے کہ اب صرف اسی شخص کو آٹو رکشہ پرمٹ دیا جائے گا جو مراٹھی زبان پڑھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس اعلان کے بعد آٹو رکشہ یونین نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 4 مئی کو ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں بڑے احتجاج اور ہڑتال کی وارننگ دی ہے۔
یونین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہزاروں ایسے ڈرائیور متاثر ہوں گے جو غیر مراٹھی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور برسوں سے ممبئی میں روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق زبان کی بنیاد پر روزگار محدود کرنا مناسب نہیں، خاص طور پر ایسے شہر میں جہاں ملک کے مختلف حصوں سے لوگ آکر کام کرتے ہیں۔
آٹو یونین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر یہ فیصلہ نافذ کرنا ہی ہے تو کم از کم 3 سے 6 ماہ کا وقت دیا جائے تاکہ ڈرائیور مراٹھی زبان سیکھ سکیں اور ان کا روزگار متاثر نہ ہو۔
دوسری طرف مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) بھی اس معاملے میں سرگرم ہو گئی ہے۔ پارٹی کی مقامی شاخ کی جانب سے مختلف علاقوں میں آٹو رکشوں پر مراٹھی زبان کے حق میں اسٹیکرز لگائے جا رہے ہیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ مہاراشٹر میں رہنے والے ہر شخص کو مراٹھی زبان جاننا ضروری ہے اور جو لوگ اسے نہیں جانتے، انہیں سیکھنا چاہیے۔
ٹھانے میں ایم این ایس کے مرکزی دفتر کے قریب غیر مراٹھی آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے خلاف وارننگ والے بینر بھی لگائے گئے ہیں۔ ان پوسٹروں میں واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر عوام کو پریشان کرنے یا بند کی کال کے ذریعے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بینر ایم این ایس لیڈر اویناش جادھو اور سٹی نائب صدر سشانت ڈومبے کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ریاست میں سیاسی اور سماجی ماحول کافی گرم ہو گیا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس تنازعے کے مزید بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
