انڈمان و نکوبار کے پورٹ بلیئر میں جمعیۃ علماء ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے عظیم مجاہدِ آزادی حضرت علامہ فضل حق خیر آبادیؒ کے مزار پر حاضری دے کر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ایصالِ ثواب کیا گیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔
یہ وفد جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں پہنچا، جس میں مختلف صوبوں کے صدور اور نظمائے اعلیٰ بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ ان دنوں جمعیۃ علماء ہند کا آٹھواں مرکزی مشاورہ انڈمان و نکوبار میں جاری ہے، اور اسی سلسلے میں صدر محترم نے اپنی مصروفیات کے باوجود نمازِ عصر کے بعد مزار پر حاضری دی۔
حضرت علامہ فضل حق خیر آبادیؒ کو 1857 کی جنگِ آزادی کے عظیم قائدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے انگریز استعمار کے خلاف فتویٰٔ جہاد جاری کر کے قوم کو آزادی کی جدوجہد کے لیے ابھارا۔ اسی جراتمندانہ کردار کے باعث انہیں گرفتار کیا گیا، ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا اور سخت ترین سزائیں سنائی گئیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق انہیں سزائے موت اور پھانسی جیسے مراحل سے بھی گزرنا پڑا۔
اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری، صدر مجلس قائمہ مولانا رحمت اللہ میر، ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی، مولانا نیاز فاروقی سمیت دیگر اہم ذمہ داران بھی شریک رہے۔ اسی تقریب میں صدر جمعیۃ علماء ہند کو ’باغی ہندوستان‘ کے نام سے ایک کتاب بھی پیش کی گئی۔
مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علامہ فضل حق خیر آبادیؒ نہ صرف ایک عظیم مجاہد آزادی تھے بلکہ اپنے دور کے ایک بلند پایہ عالم، فلسفی اور علمی دنیا کی نمایاں شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کی آزادی کے لیے ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور جب تک ہندوستان قائم ہے، علماء کی ان خدمات اور قربانیوں کی یاد زندہ رہے گی۔
انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ انڈمان میں حضرت علامہ فضل حق خیر آبادیؒ کو جو مقام اور قومی سطح پر جو پہچان ملنی چاہیے تھی، وہ اب تک مکمل طور پر نہیں مل سکی، اور اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آخر میں جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران نے حضرت علامہ فضل حق خیر آبادیؒ کے لیے مغفرت، بلندی درجات اور ان کی علمی، دینی و ملی خدمات کے اعتراف میں اجتماعی دعا کا اہتمام کیا۔
