اسمارٹ فونز پر آدھار ایپ لازمی کرنے کی تجویز واپس، ٹیک کمپنیوں اور پرائیویسی خدشات کے بعد حکومت کا فیصلہ
مرکزی حکومت نے اسمارٹ فونز میں آدھار ایپ کو لازمی طور پر پہلے سے انسٹال کرنے کی تجویز واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سخت مخالفت اور صارفین کے درمیان بڑھتے ہوئے پرائیویسی خدشات کے بعد سامنے آیا ہے۔ابتدائی طور پر یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) نے جنوری میں اسمارٹ فون ساز کمپنیوں سے کہا تھا کہ نئے فونز میں آدھار ایپ کو پری انسٹال کیا جائے تاکہ شہریوں کو سرکاری خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو سکے۔
تاہم اس تجویز پر عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے ایپل، سام سنگ اور گوگل کی جانب سے شدید اعتراض سامنے آیا۔ کمپنیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کے اقدام سے صارفین کی سیکیورٹی اور پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے۔آدھار نظام کے تحت 12 ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر شہری کے بایومیٹرک ڈیٹا یعنی فنگر پرنٹس اور آئی رس اسکین سے منسلک ہوتا ہے، جو ملک بھر میں بینکنگ، ٹیلی کام اور دیگر خدمات میں شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے بعد ازاں جاری بیان میں کہا گیا کہ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اس تجویز پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی گئی۔اس تجویز کے خلاف نہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے آواز اٹھائی بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید تحفظات سامنے آئے۔ صارفین کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ان کی پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے اور ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق بڑھتے ہوئے دباؤ اور پرائیویسی خدشات نے حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر دیا۔
