انڈمان میں جمعیۃ علماء ہند کا مرکزی اجلاس شروع، نوجوانوں کی تربیت اور مستقبل کے منصوبوں پر غور
جزائر انڈمان و نکوبار میں جمعیۃ علماء ہند کا اہم مرکزی مشاورتی اجلاس باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے، جس میں ملک بھر سے تنظیم کے صوبائی صدور اور اعلیٰ ذمہ داران شریک ہیں۔ یہ تین روزہ اجلاس تنظیم کی آئندہ حکمتِ عملی، سماجی خدمات اور تعلیمی و تربیتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد حکیم الدین قاسمی انجام دے رہے ہیں۔ افتتاحی نشست میں مختلف ریاستوں کے نمائندوں نے اپنی کارکردگی رپورٹس پیش کیں اور تنظیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
استقبالیہ خطاب میں مقامی ذمہ داران نے انڈمان کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرزمین آزادی کی قربانیوں کی علامت ہے، جہاں ماضی کی جدوجہد آج بھی حوصلہ دیتی ہے۔ انہوں نے اس اہم اجلاس کے انعقاد کو بامعنی قرار دیتے ہوئے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

اجلاس کے دوران نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت، قیادت سازی اور سماجی خدمات میں ان کے کردار کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی کے ساتھ “مثالی مسجد” کے تصور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں مسجد کو عبادت کے ساتھ ساتھ تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز بنانے پر زور دیا گیا۔
آئندہ نشستوں میں تنظیم کے سالانہ پروگرام، تربیتی ورکشاپس، ائمہ کی تربیت، میرج کونسلنگ اور دیگر رفاہی منصوبوں پر فیصلے متوقع ہیں۔ اس اجلاس کے ذریعے جمعیۃ علماء ہند اپنی آئندہ سرگرمیوں کا جامع روڈ میپ تیار کرے گی، جس سے ملک بھر میں تنظیمی و سماجی خدمات کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
