مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں کانگریس کی دو خاتون کونسلروں کے خلاف ’وندے ماترم‘ نہ گانے کے معاملے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے بجٹ اجلاس کے دوران کونسلر روبینہ اقبال خان اور فوضیہ شیخ علیم نے قومی نغمہ گانے سے انکار کیا، جس کے بعد ایوان میں کافی ہنگامہ ہوا اور اب اس معاملے میں پولیس نے باقاعدہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق بی جے پی کونسلروں نے اس واقعے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنر اور ایم جی روڈ تھانے میں درخواست دی تھی، جس میں دونوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ پولیس نے شکایت کی جانچ کے بعد درخواست دہندگان کے بیانات قلمبند کیے اور کانگریس کی دونوں کونسلروں سے بھی پوچھ گچھ کی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دفعہ 1/196 کے تحت کیس درج کر لیا گیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں کونسلروں نے اپنے مؤقف میں آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کا حوالہ دیا، لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف کارروائی عمل میں آئی۔ اس سے پہلے ایوان میں بھی معاملہ گرم رہا، جہاں اسپیکر نے ہنگامے کے دوران فوضیہ شیخ علیم کو باہر جانے کی ہدایت دی تھی۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہو چکے ہیں اور حکومت کی جانب سے اسے سرکاری اداروں میں گانے کی ہدایت دی گئی ہے، لہٰذا اس سے انکار مناسب نہیں۔
دوسری جانب فوضیہ شیخ علیم کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت ایوان میں موجود نہیں تھیں جب نغمہ گایا جا رہا تھا، اور بعد میں آنے پر انہوں نے اپنی بات رکھی۔ ان کے مطابق اس گیت کے بعض الفاظ ایسے ہیں جنہیں وہ اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں گا سکتیں۔ ان کے اس بیان کو نازیبا تبصرہ تصور کرتے ہوئے ان پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا اور ایک دن کے لیے معطل بھی کیا گیا تھا۔
فوضیہ شیخ نے واضح کیا کہ ان کا مذہب انہیں ’وندے ماترم‘ گانے کی اجازت نہیں دیتا، اور آئین کے تحت انہیں اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے، اس لیے کسی کو بھی انہیں مجبور کرنے کا اختیار نہیں۔
