چھتیس گڑھ کے ضلع سکتی میں واقع ویدانتا لمیٹڈ کے تھرمل پاور پلانٹ میں پیش آنے والے ہولناک حادثے نے ہر کسی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ منگل کی دوپہر سنگھی ترائی گاؤں میں موجود اس پلانٹ میں ایک اسٹیل پائپ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جو بوائلر سے ٹربائن تک انتہائی دباؤ والی بھاپ منتقل کر رہا تھا۔ حادثے کے وقت بوائلر کا درجہ حرارت تقریباً 700 ڈگری سیلسیس تھا، جس کے باعث نکلنے والی تیز گرم بھاپ نے کئی کارکنوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس افسوسناک واقعے میں جان گنوانے والوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو چکی ہے۔
حادثے کے فوراً بعد زخمی مزدوروں کو رائے گڑھ اور رائے پور کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ پرفل ٹھاکر کے مطابق اس وقت بھی 10 سے زائد افراد زیر علاج ہیں، جن میں کچھ رائے پور جبکہ دیگر رائے گڑھ کے اسپتالوں میں داخل ہیں۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائے نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے مہلوکین کے اہل خانہ کو 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کی بات کہی ہے۔ دوسری جانب ویدانتا کمپنی نے بھی اپنی جانب سے مہلوکین کے لواحقین کو 35 لاکھ روپے، نوکری کی فراہمی اور زخمیوں کو 15 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ زخمیوں کا مکمل علاج، تنخواہوں کی ادائیگی اور ذہنی معاونت (کاؤنسلنگ) فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم قومی راحت فنڈ سے بھی مہلوکین کے اہل خانہ کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
حادثے کی شدت کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے مجسٹریل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں بلاس پور کے کمشنر کو جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ سکتی کے کلکٹر امرت وکاس ٹوپنو نے ڈبھرا کے ایس ڈی ایم کو تفتیشی افسر مقرر کیا ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کریں، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ حادثہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا یا کسی کی غفلت کا۔
ادھر اس واقعے کے بعد سیاسی ماحول بھی گرم ہو گیا ہے۔ کانگریس نے پلانٹ انتظامیہ پر سنگین لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے عدالتی تحقیقات اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاستی کانگریس کے ترجمان سشیل آنند شکلا نے مہلوکین کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے 10 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جس کی قیادت جئے سنگھ اگروال کو سونپی گئی ہے۔
