ممبئی: برصغیر کی موسیقی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، جب لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال کے بعد ان کے آخری دیدار کے لیے ممبئی میں عقیدت مندوں کا جم غفیر امڈ آیا۔ شہر کی فضا غم میں ڈوبی ہوئی دکھائی دی، جہاں ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل افسردہ نظر آیا۔فلمی دنیا، موسیقی کے شعبے اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی کئی معروف شخصیات اس موقع پر موجود تھیں۔ اداکارہ تبو اور سینئر اداکارہ آشا پاریکھ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ دکھائی دیں۔ اس کے علاوہ سچن ٹنڈولکر، رتیش دیش مکھ، ادھو ٹھاکرے، رشمٰی ٹھاکرے، آدتیہ ٹھاکرے اور مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھا کرشنن سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی حاضری دی۔
موسیقار اتم سنگھ نے کہا کہ آشا بھوسلے کی رخصتی موسیقی کے ایک سنہرے دور کے خاتمے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق پہلے لتا منگیشکر کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا ابھی پُر نہیں ہوا تھا کہ اب یہ صدمہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی منفرد آوازیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔
رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آشا بھوسلے کے نغمے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ انہوں نے ان کے جدوجہد بھرے سفر کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے فن کو ہمیشہ بلند مقام پر رکھا۔
گلوکار و موسیقار لیسل لیوس نے کہا کہ آشا بھوسلے کے ساتھ کام کرنا ان کے کیریئر کا ایک یادگار تجربہ رہا۔ ان کے مطابق یہ نقصان صرف موسیقی کی دنیا کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے۔
اداکار سنجے نرویکر نے کہا کہ آشا بھوسلے نے اپنی آواز کے ذریعے لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیا، جبکہ گلوکارہ سادھنا سرگم نے بھی اسے ایک عہد کے اختتام سے تعبیر کیا۔
انتظامیہ کے مطابق آشا بھوسلے کی آخری رسومات آج ممبئی کے شیواجی پارک میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ اس موقع پر بھی بڑی تعداد میں مداح اور معزز شخصیات شریک ہوں گی۔آشا بھوسلے کی مدھر آواز، ان کے لازوال گیت اور ان کی بے مثال خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ وہ اپنے فن کے ذریعے آنے والی نسلوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے بس جائیں گی۔
