دہلی فسادات کیس میں ملزم عمر خالد نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور اس بار انہوں نے اپنے معاملے کی سماعت ’اوپن کورٹ‘ یعنی کھلی عدالت میں کرنے کی خصوصی درخواست کی ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال 5 جنوری کو سپریم کورٹ ان کی ضمانت کی عرضی مسترد کر چکی ہے، جس کے بعد اب انہوں نے اسی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے۔
عمر خالد طویل عرصے سے جیل میں بند ہیں اور ان پر دہلی فسادات کی سازش میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ یو اے پی اے کے تحت سنگین الزامات عائد ہیں۔ اس سے قبل نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ نے بھی ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
پیر کے روز سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کے روبرو اس نظرثانی درخواست کا ذکر کیا، جس پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے 15 اپریل کو سماعت مقرر کر دی ہے۔ عمر خالد کی جانب سے خاص طور پر یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے دلائل ججوں کے چیمبر کے بجائے کھلی عدالت میں سنے جائیں، حالانکہ عموماً ایسی درخواستوں پر سماعت بند کمرے میں کی جاتی ہے۔
چیف جسٹس نے اس مطالبے پر فوری فیصلہ دینے کے بجائے کہا کہ عدالت اس پہلو پر غور کرے گی اور بعد میں یہ طے کیا جائے گا کہ سماعت کس طریقے سے ہوگی۔ اب نظریں 15 اپریل کی سماعت پر جمی ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ آیا عدالت اپنے سابق فیصلے پر دوبارہ غور کرتی ہے یا نہیں، اور کیا اس کیس میں روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر کھلی عدالت میں سماعت کی اجازت دی جاتی ہے۔
