حج 2026 کے لیے عازمین سے اضافی 10 ہزار روپے وصول کرنے کے حکومتی فیصلے پر سیاسی ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر Asaduddin Owaisi نے اس اقدام کو ’’استحصال‘‘ قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر سرکلر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر حج کمیٹی کے سرکلر کی نقل شیئر کرتے ہوئے کہا کہ عازمین حج سے ’’فرق شدہ ہوائی کرایہ‘‘ کے نام پر مزید 10 ہزار روپے طلب کیے جا رہے ہیں، جبکہ صرف دو ماہ قبل ممبئی امبارکیشن پوائنٹ سے ہر حاجی سے 90,844 روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رقم عام مسافروں کے موجودہ فضائی کرایوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی بنتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حج کمیٹی کے ذریعے سفر کرنے والے عازمین کو سزا دی جا رہی ہے؟ اویسی نے کہا کہ زیادہ تر حاجی متوسط یا کمزور مالی حیثیت رکھتے ہیں، جو برسوں کی بچت کے بعد فریضۂ حج ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حج کسی عیش و آرام کا سفر نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر یہ سرکلر واپس لینا چاہیے اور جو اضافی رقم وصول کی گئی ہے، وہ عازمین کو واپس کی جائے۔
دوسری جانب وزارتِ اقلیتی امور کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور فضائی اخراجات میں اضافے کے باعث 2026 کے عازمین حج کو 10 ہزار روپے اضافی جمع کروانے ہوں گے۔ یہ رقم 15 مئی تک ادا کرنا ضروری قرار دی گئی ہے۔ نوٹس کے مطابق ممبئی، دہلی یا کسی بھی دوسرے شہر سے روانہ ہونے والے تمام عازمین پر یہ فیصلہ یکساں طور پر نافذ ہوگا۔
