جبل پور کشتی حادثہ: 9 افراد جاں بحق، ماں کے سینے سے لپٹے 4 سالہ معصوم نے سب کو رُلا دیا
مدھیہ پردیش کے جبل پور میں برگی ڈیم پر پیش آنے والا کشتی حادثہ ایک دل دہلا دینے والے سانحہ میں تبدیل ہو گیا، جہاں نرمدا ندی کے بیک واٹر میں سیاحوں سے بھرا کروز اچانک تیز ہواؤں اور بلند لہروں کے باعث ڈوب گیا۔ اس افسوسناک حادثے میں اب تک 9 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 23 افراد کو محفوظ نکال لیا گیا۔ چند افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل تلاش میں
مصروف ہیں۔
🔴 #BREAKING | जबलपुर क्रूज हादसे में अब तक 9 लोगों की मौत#Jabalpur | @ranjanasingh95 pic.twitter.com/iS8TrXlyvv
— NDTV India (@ndtvindia) May 1, 2026
حادثے کے بعد منظر انتہائی دردناک ہو گیا، خاص طور پر اس وقت جب ایک خاتون کی لاش برآمد ہوئی جس کے سینے سے اس کا 4 سالہ معصوم بچہ لپٹا ہوا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم ہو گئیں، یہاں تک کہ کابینہ وزیر راکیش سنگھ بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
دہلی سے آئے سیاح پردیپ کمار، جو اس حادثے میں بچ گئے، نے انتظامیہ پر سنگین لاپروائی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق کروز میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ عملے کے صرف دو افراد موجود تھے اور کسی مسافر کو بروقت لائف جیکٹ نہیں دی گئی۔ مسافروں نے ایک دوسرے کی مدد سے خود کو بچانے کی کوشش کی۔
پردیپ نے بتایا کہ جب موسم خراب ہوا اور پانی میں تیز لہریں اٹھنے لگیں تو کنارے پر موجود لوگوں نے بھی ڈرائیور کو کروز کنارے لگانے کا مشورہ دیا، لیکن اس نے بات نہ مانی اور واپس ابتدائی پوائنٹ کی طرف بڑھتا رہا، جس کے کچھ ہی دیر بعد کروز پانی میں ڈوب گیا۔
#BREAKING : Video footage of the moment, a cruise carrying tourists sank at Bargi Dam in Jabalpur.
Authorities have confirmed four deaths so far. More than 15 people were successfully rescued, while search and rescue operations continue for those still missing.… pic.twitter.com/2GZOnzH6FO
— upuknews (@upuknews1) April 30, 2026
حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ ڈوبے ہوئے کروز کو باہر نکالنے کی کوشش بھی جاری رہی۔ بعد میں بھوپال اور آگرہ سے این ڈی آر ایف کی خصوصی ٹیمیں طلب کی گئیں، جن کے ماہر غوطہ خور اب لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ حادثے کے وقت موسم اچانک خراب ہو گیا تھا، تیز ہوائیں چلنے لگیں اور پانی میں خطرناک لہریں اٹھنے لگیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کروز پہلے ہی غیر مستحکم ہو چکا تھا، لیکن بروقت احتیاط نہ برتی گئی۔
یہ کروز گزشتہ کئی برسوں سے برگی ڈیم میں سیاحتی خدمات انجام دے رہا تھا۔ حادثے کے وقت اس میں 29 سیاح اور عملے کے 2 افراد سوار تھے، جبکہ اس کی گنجائش تقریباً 60 افراد کی تھی۔
اس دوران بہار سے تعلق رکھنے والے مزدور کرن سنگھ اور اروند یادو نے غیر معمولی بہادری دکھاتے ہوئے اپنی جان خطرے میں ڈال کر 12 سے 14 افراد کو بچایا، جن میں کئی خواتین بھی شامل تھیں۔ ان کی جرات نے کئی خاندانوں کو مکمل تباہی سے بچا لیا۔
