قومی راجدھانی دہلی سے متصل ہریانہ کے صنعتی شہر گروگرام میں اتوار کی صبح آتشزدگی کے دو بڑے واقعات نے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ ہفتہ کی رات سکندرپور میں 100 سے زائد جھگیاں جل کر خاکستر ہو گئیں، جبکہ اتوار علی الصبح بجگھیڑہ میں ایک پلاسٹک فیکٹری اور گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
آگ اس قدر شدید تھی کہ اس سے اٹھنے والا سیاہ دھواں کئی کلومیٹر دور تک صاف دکھائی دے رہا تھا، جس کے باعث آس پاس کی بلند عمارتوں اور سوسائٹیوں میں رہنے والے ہزاروں افراد پریشان ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق بجگھیڑہ میں واقع ایک اسکریپ کرشنگ فیکٹری میں صبح تقریباً 5 بجے آگ لگنے کا پتہ چلا۔ پلاسٹک اور اسکریپ کے ذخیرے کی وجہ سے آگ نے فوراً شدت پکڑ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک منظر پیش کرنے لگی۔
شدید آگ نے قریب واقع لکڑی کے دو گوداموں کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی نصف درجن سے زیادہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ پلاسٹک کے باعث آگ بار بار بھڑک رہی تھی، جس کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں تقریباً چار گھنٹے کی سخت جدوجہد کرنا پڑی۔
حادثے کی جگہ کے قریب 5 سے 6 بڑی رہائشی سوسائٹیاں اور بجگھیڑہ گاؤں کی گنجان آبادی موجود ہے۔ دھوئیں کے بادل فلیٹوں کے اندر تک پہنچ گئے، جس سے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔احتیاطی تدابیر کے تحت پولیس نے آس پاس کے علاقوں کو خالی کرا لیا اور رہائشیوں کو آگ کے مقام سے دور رہنے کی ہدایت دی۔
اس سے قبل ہفتہ کی دیر رات سکندرپور کے قریب جھونپڑیوں میں بھی خوفناک آگ لگ گئی تھی، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد خاندان بے گھر ہو گئے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں اتوار کی صبح تک وہاں سرچ اور کولنگ آپریشن میں مصروف رہیں۔
