آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز پر حملہ، دو ہندوستانی ہلاک، ایک لاپتہ
آبنائے ہرمز میں بدھ کے روز ایک کارگو جہاز پر حملے کا واقعہ پیش آیا جس میں دو ہندوستانی شہری ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شخص کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ جہاز تھائی لینڈ کا بتایا جا رہا ہے اور گجرات کی بندرگاہ کاندلا کی جانب جا رہا تھا۔ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس واقعہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری علاقائی کشیدگی کے درمیان تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا انتہائی تشویش ناک ہے۔
Statement regarding ship bound for Kandla, India ⬇️
🔗 https://t.co/CdtmMXAdPY pic.twitter.com/xVK9AymYn2
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) March 11, 2026
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ 11 مارچ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تھائی کارگو جہاز “میوری ناری” پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں دو ہندوستانی شہری جان کی بازی ہار گئے اور ایک فرد اب تک لاپتہ ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق، موجودہ جنگی صورتحال میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت عمل ہے اور اس طرح کے اقدامات سے بے گناہ شہریوں کی جان خطرے میں پڑتی ہے۔ ہندوستان نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی سمندری راستوں کو محفوظ رکھا جائے۔
A Thai-flagged cargo ship, Mayuree Naree, was struck by projectiles while attempting to pass through the Strait of Hormuz, about 18 km north of Oman. A fire broke out in the engine room, 20 crew were rescued, and three sailors are reported missing. #WashingtonEye pic.twitter.com/BBa6U3M5Bi
— Washington Eye (@washington_EY) March 11, 2026
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے اس حملے کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لائبیرین پرچم والے کنٹینر جہاز “ایکسپریس روم” اور تھائی جہاز “میوری ناری” کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ انہوں نے ایران کی جانب سے جاری انتباہ کے باوجود آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔آئی آر جی سی کے بحری کمانڈر علی رضا تنگسیری نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کی اجازت درکار ہوگی۔ ایرانی حکام نے مزید خبردار کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل یا ان کے اتحادیوں سے وابستہ جہازوں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے اور خطے میں تیل کی نقل و حمل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ادھر ہندوستانی وزارت خارجہ نے خطے کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں تقریباً 9000 ہندوستانی شہری موجود ہیں۔ کچھ افراد پہلے ہی حکومتی ہدایت پر وطن واپس آ چکے ہیں، جبکہ باقی شہریوں سے سفارت خانہ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کی سلامتی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
