ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر مبینہ ناکہ بندی ختم نہیں کی گئی تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران کی وزارتِ دفاع کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت مکمل طور پر سکیورٹی صورتحال سے مشروط ہے، اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار خطے میں جنگ بندی اور حملوں کے نہ ہونے پر ہوگا۔ وزارت نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں اگر کشیدگی برقرار رہی تو معمول کی بحری نقل و حرکت ممکن نہیں رہے گی۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے امریکہ پر “بار بار اعتماد کی خلاف ورزی” اور “بحری قزاقی” جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز ایرانی فوج کے سخت کنٹرول میں رہے گی، اور بغیر اجازت گزرنے والے جہازوں کو دشمن کی مدد سمجھا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ اس اہم آبی راستے سے صرف وہی جہاز گزر سکیں گے جنہیں اجازت دی جائے گی اور انہیں مقررہ اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران پر دباؤ اسی وقت تک برقرار رہے گا جب تک جوہری معاہدے پر پیش رفت نہیں ہوتی، اور اسی دوران بحری پابندیاں بھی جاری رہیں گی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
