کشمیر میں ایران کے معاملے پر احتجاج، کئی افراد گرفتار، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند
سرینگر: ایران پر حملے اور وہاں کی اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے خلاف انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اتوار سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سرینگر سمیت مختلف اضلاع میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں، جن میں سُنی برادری کے افراد کی بھی قابلِ ذکر شرکت دیکھی گئی۔ مظاہرین نے امریکہ مخالف نعرے بازی کی اور عالمی برادری سے ردعمل کا مطالبہ کیا۔صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پیر کے روز انتظامیہ نے کئی علاقوں میں سکیورٹی سخت کرتے ہوئے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔ بعض مقامات پر لوگوں نے پابندیوں کے باوجود احتجاج کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ منگل کی شب بھی حکام نے اعلان کیا کہ پابندیاں تاحکمِ ثانی برقرار رہیں گی۔

احتیاطی اقدامات کے طور پر تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل 7 مارچ تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر بند رہی، جسے بدھ کی صبح جزوی طور پر بحال کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق حالات مکمل طور پر معمول پر آنے تک صرف 2G سروس دستیاب رہے گی۔ادھر پولیس نے رات گئے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ مقامی رکن اسمبلی تنویر صادق نے ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ زیرِ حراست افراد میں نابالغ بھی شامل ہیں، جس سے ان کے اہلِ خانہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
دوسری جانب رکن پارلیمان آغا روح اللہ اور سابق میئر سرینگر جنید عظیم متو کے خلاف ’تشدد پر اکسانے‘ اور ’امن عامہ میں خلل‘ ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف کارروائی اظہارِ رائے کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔
گزشتہ دو دنوں کے دوران احتجاجی خبروں کی کوریج پر بھی قدغنیں سامنے آئیں۔ معروف اخبارات Greater Kashmir, Kashmir Life اور Rising Kashmir کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے۔ ’کشمیر لائف‘ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت کیا گیا ہے۔
ان اقدامات پر مختلف سیاسی حلقوں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ معتبر میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کرنا آزادیٔ اظہار کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے غیر مصدقہ اطلاعات کو فروغ مل سکتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شہری آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔
