امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک اہم بیان دے کر عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو 20 سال کے لیے مکمل طور پر روک دیتا ہے تو یہ ایک قابل قبول قدم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف کاغذی وعدہ نہیں بلکہ حقیقی اور مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔
ماضی میں ٹرمپ ایران سے یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، لیکن اب ان کے نئے بیان کو پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس بیان سے مستقبل کے مذاکرات پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات اب بھی ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی تجاویز کو مسترد کر چکے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور حملے بند ہونے چاہئیں، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے جوہری عزائم پر سخت موقف رکھتے ہیں۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک اپنے مؤقف میں نرمی نہیں لاتے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اسرائیل نے ابھی تک اس بیان پر کھل کر کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم ماضی میں اسرائیلی قیادت ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف سخت مؤقف رکھتی رہی ہے۔
اب دنیا کی نظریں آنے والے دنوں کے مذاکرات پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ ان فیصلوں کا اثر صرف مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ عالمی معیشت اور امن پر بھی پڑ سکتا ہے۔
میں اسی انداز میں باقی خبر نمبر 2 سے خبر نمبر 10 بھی الگ الگ، 30 لائن کے قریب، نئی اور طاقتور بنا دوں گا۔ چونکہ مواد بڑا ہے، میں انہیں مرحلہ وار (2–3 خبریں ایک جواب میں) دوں گا تاکہ معیار برقرار رہے۔
