ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کے خاتمے کی امید ایک بار پھر مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یومِ فتح کی تقریب کے بعد اپنے خطاب میں اشارہ دیا کہ موجودہ تنازع اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور حالات آہستہ آہستہ امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
صدر پوتن نے جنگ کے طویل ہونے کا ذمہ دار مغربی ممالک کی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو روس کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق مغربی طاقتوں نے کشیدگی کم کرنے کے بجائے مسلسل فوجی امداد دے کر حالات کو مزید سنگین بنایا۔
روسی صدر نے انکشاف کیا کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں استنبول مذاکرات کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان معاہدے کی راہ تقریباً ہموار ہو چکی تھی، لیکن بعد میں بعض یورپی ممالک کے دباؤ کے باعث مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی وفد سمجھوتے کے لیے تیار تھا، مگر بیرونی طاقتوں نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا۔
ولادیمیر پوتن نے کہا کہ مغربی دنیا کو امید تھی کہ روس کو چند ماہ میں کمزور کر دیا جائے گا، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور مستقبل میں یورپ میں ایسی قیادت سامنے آ سکتی ہے جو روس کے ساتھ بہتر تعلقات کی حامی ہو۔
دوسری جانب روس، یوکرین اور عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطے بھی تیز ہو گئے ہیں۔ روسی صدر کے مطابق ہندوستان، چین اور امریکہ سمیت اہم ممالک کو جنگ کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے تاکہ امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ادھر تین روزہ عارضی جنگ بندی پر بھی اتفاق سامنے آیا ہے، جس کا مقصد انسانی امداد کی فراہمی اور سرحدی کشیدگی میں کمی لانا بتایا جا رہا ہے۔ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو مستقل امن معاہدے کی جانب ابتدائی مگر اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی روس اور یوکرین کے درمیان محدود مدت کی جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔ عالمی برادری اب اس امید میں ہے کہ برسوں سے جاری یہ خونی تنازع جلد کسی سیاسی حل کی طرف بڑھ سکے گا۔
