عالمی ادارۂ صحت نے ہنتا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ کے بعد متاثرہ بحری جہاز میں سوار تمام افراد کو انتہائی خطرے کے دائرے میں قرار دیتے ہوئے 42 دن تک مسلسل طبی نگرانی کی سفارش کی ہے۔ ادارے کے مطابق جہاز پر موجود ہر مسافر اور عملے کے ہر رکن کو ممکنہ متاثرہ فرد سمجھا جا رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی ماہرِ وبائی امراض ماریا وان کیرکھوو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اب تک بیشتر افراد میں واضح علامات سامنے نہیں آئیں، لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام افراد کی صحت پر مسلسل نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال عام عوام کے لیے خطرہ کم تصور کیا جا رہا ہے، تاہم طبی نگرانی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق بحری جہاز میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سانس سے متعلق شدید بیماری کے کئی معاملات سامنے آئے تھے۔ جہاز پر موجود متعدد افراد میں بخار، جسم میں درد اور دیگر علامات پائی گئیں، جبکہ بعض مریضوں میں ہنتا وائرس کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ افسوسناک طور پر چند اموات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے مختلف ممالک کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کا سراغ لگائیں، طبی جانچ کے عمل کو تیز کریں اور عوام تک درست اور بروقت معلومات پہنچائیں تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ہنتا وائرس کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، سردرد، کپکپی، پٹھوں میں درد، متلی، الٹی، دست اور پیٹ میں تکلیف شامل ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی معائنہ کروائیں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔
