شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے بڑھتے خطرے کو دیکھتے ہوئے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے دہلی سمیت ملک کی 21 ریاستوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے فوری تیاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ہر سال بڑھنے والی گرمی اب صرف موسمی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ براہِ راست انسانی جان، صحت اور روزگار کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
این ایچ آر سی نے ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ ہیٹ ویو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات، جیسے غریب افراد، یومیہ مزدور، کھلے آسمان کے نیچے کام کرنے والے کارکن، بزرگ، بچے، نومولود اور خاص طور پر بے گھر افراد کی حفاظت کے لیے فوری اور مضبوط انتظامات کیے جائیں۔ کمیشن کے مطابق ان لوگوں کے پاس مناسب رہائش، ٹھنڈک کے وسائل اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے شدید گرمی ان کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے بتایا کہ سال 2019 سے 2023 کے درمیان ملک بھر میں ہیٹ اسٹروک یا لُو لگنے سے 3712 افراد کی موت درج کی گئی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر بروقت احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں این ایچ آر سی نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ پہلے سے طے شدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری رہنما اصولوں کے مطابق امدادی اقدامات فوری طور پر نافذ کریں۔ ان اقدامات میں پینے کے پانی کی مناسب فراہمی، شیلٹر ہومز کا انتظام، طبی سہولیات کی دستیابی اور عوامی بیداری مہم شامل ہیں، تاکہ ہیٹ ویو کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور جان و مال کے نقصان سے بچا جا سکے۔
کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ریاستی حکومتوں کو ضلعی سطح پر کیے گئے اقدامات کی مکمل رپورٹ تیار کرکے مجموعی شکل میں جمع کرانی ہوگی، تاکہ ملک بھر کی صورتحال پر نظر رکھی جا سکے اور ضرورت پڑنے پر مزید ضروری مداخلت ممکن ہو۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ دہلی سمیت شمالی ہندوستان کی کئی ریاستیں اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، تاہم موسم میں جلد تبدیلی کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔ India Meteorological Department (آئی ایم ڈی) کے مطابق دہلی میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران لوگوں کو گرمی سے کچھ راحت مل سکتی ہے۔ 28 اپریل کو بارش کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ 29 اپریل کے لیے دہلی میں یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
