اس مرحلے میں بتیس اعشاریہ ایک ملین سے زیادہ ووٹر ایک ہزار چار سو اڑتالیس امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق ان 142 نشستوں پر کل تین کروڑ اکیس لاکھ تہتر ہزار آٹھ سو سینتیس رجسٹرڈ ووٹر موجود ہیں، جن میں ایک کروڑ چونسٹھ لاکھ پینتیس ہزار چھ سو ستائیس مرد، ایک کروڑ ستاون لاکھ سینتیس ہزار چار سو اٹھارہ خواتین اور سات سو بانوے تیسری جنس کے ووٹر شامل ہیں۔ تمام ووٹروں کو تصویری شناختی کارڈ فراہم کیے جا چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سو سال یا اس سے زیادہ عمر کے ووٹروں کی تعداد تین ہزار دو سو تینتالیس ہے، جبکہ پچاسی سال سے زائد عمر کے ووٹر ایک لاکھ چھیانوے ہزار آٹھ سو ایک ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سو چھیالیس این آر آئی ووٹر اور انتالیس ہزار نو سو اکسٹھ سروس ووٹر بھی اس مرحلے میں اپنا ووٹ ڈالیں گے۔
دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر ایک ہزار چار سو اڑتالیس امیدوار میدان میں ہیں، جن میں ایک ہزار دو سو اٹھائیس مرد اور دو سو بیس خواتین شامل ہیں، جبکہ کسی بھی نشست پر تیسری جنس کا کوئی امیدوار موجود نہیں ہے۔ ایک سو بیالیس میں سے ایک سو سات نشستیں عام زمرے کے لیے ہیں، چونتیس نشستیں درج فہرست ذاتوں کے لیے اور ایک نشست درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص ہے۔
جنوبی چوبیس پرگنہ ضلع کی بھنگر اسمبلی سیٹ پر سب سے زیادہ پندرہ امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ ہگلی ضلع میں سب سے کم صرف پانچ امیدوار انتخابی مقابلے میں شامل ہیں۔
کولکاتہ کے علاوہ جن اضلاع میں آج ووٹنگ ہو رہی ہے ان میں نادیہ، پوربا بردھمان، ہگلی، جنوبی چوبیس پرگنہ، شمالی چوبیس پرگنہ اور ہاوڑہ شامل ہیں۔ اس مرحلے کے لیے مجموعی طور پر اکتالیس ہزار ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں انتالیس ہزار تین سو ایک بنیادی اور سترہ سو معاون پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔
تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ویب کاسٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ شفاف اور پُرامن انتخابات یقینی بنائے جا سکیں۔ سیکورٹی کے سخت انتظامات کے تحت مرکزی فورسز کی دو ہزار چار سو سات کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ مغربی بنگال پولیس اور کولکاتہ پولیس کے اہلکار بھی بڑے پیمانے پر نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا سیاسی گڑھ مانے جانے والے بھوانی پور اسمبلی حلقے میں بھی آج ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی نظریں بھی اس مرحلے پر جمی ہوئی ہیں، جہاں شبھندو ادھیکاری سمیت کئی بڑے رہنما سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
