نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں پرامن احتجاج کو دبانے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی اصل روح اختلافِ رائے اور سوال پوچھنے کے حق میں مضمر ہے، اور اسے کمزور کرنا ملک کے مفاد میں نہیں۔’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کے دوران یوتھ کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے پس منظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں راہل گاندھی نے لکھا کہ موجودہ دور میں اقتدار کے خلاف آئینی انداز میں آواز اٹھانا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو ایسے راستے پر دھکیلا جا رہا ہے جہاں اختلاف کو دشمنی اور سوال کو سازش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔انہوں نے مختلف عوامی تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پیپر لیک معاملے پر نوجوانوں کے احتجاج، خواتین کھلاڑیوں کی جانب سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے، ماحولیاتی مسائل اور دیگر عوامی موضوعات پر ہونے والے مظاہروں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ کسانوں اور قبائلی برادریوں کی تحریکوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھا گیا۔راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں سوال اٹھانا اور احتجاج کرنا آئینی حق ہے۔ ان کے بقول جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب حکومت تنقید کو برداشت کرے، جواب دے اور جوابدہی کو قبول کرے۔دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کے بعد حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی کشمکش میں مزید شدت آ سکتی ہے
