اراکینِ پارلیمنٹ کو پیش کیے گئے تین اہم بلوں—آئینی ترمیم، حد بندی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قانون میں ترمیم—کے مسودے اس بات کا واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ ہندوستان کی انتخابی سیاست ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ نئی دہلی میں مرکزی حکومت نے جمہوری ڈھانچے میں وسیع اصلاحات کے لیے آئین (131ویں ترمیم) بل 2026، حد بندی بل 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ قانون (ترمیم) بل 2026 کا مسودہ اراکین کو سونپ دیا ہے اور انہیں جلد منظور کرانے کی تیاری بھی جاری ہے۔ ان بلوں کے تحت آئندہ مردم شماری کو بنیاد بنا کر لوک سبھا کی نشستوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے انہیں 850 تک بڑھانے، ملک بھر میں انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کرنے اور خواتین کے لیے ریزرویشن کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی کئی دہائیوں سے رکی ہوئی سیٹوں کی تنظیمِ نو اور علاقائی و لسانی نمائندگی کے نئے نظام کو باضابطہ شکل دینے کا عمل بھی شروع ہونے جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026، جسے بل نمبر 107 کہا جا رہا ہے، لوک سبھا کی کل نشستوں کو بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 815 ریاستوں اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک لے جانے کی تجویز پیش کرتا ہے، جبکہ آبادی کی تعریف میں بھی تبدیلی کی بات کی گئی ہے تاکہ نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندی ممکن ہو سکے۔ حد بندی بل 2026 (بل 108) کے ذریعے ایک مضبوط حد بندی کمیشن قائم کیا جائے گا، جو تازہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں کی تقسیم طے کرے گا، اور اس کی سربراہی سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جج کے سپرد ہوگی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ اسی طرح تیسرا بل یعنی مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل 2026 (بل 109) دہلی، پڈوچیری اور جموں و کشمیر کے قوانین میں تبدیلی کی تجویز دیتا ہے، تاکہ انہیں نئی حد بندی اور خواتین ریزرویشن سے ہم آہنگ کیا جا سکے، جس میں پڈوچیری میں نامزد اراکین کی تعداد بڑھا کر 5 کرنے اور ان میں 2 خواتین شامل کرنے کی بات بھی شامل ہے۔
مزید برآں، ان مجوزہ ترامیم کے تحت لوک سبھا کی موجودہ 543 مؤثر نشستوں کے مقابلے میں 850 نشستوں تک اضافہ، ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک بڑی توسیع تصور کیا جا رہا ہے۔ اس وقت تک نشستوں کی تقسیم 1971 کی مردم شماری پر مبنی رہی ہے، تاہم نئی ترامیم کے ذریعے آئین کی دفعات 82 اور 170 میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ طے کیا جا رہا ہے کہ آئندہ تقسیم نئی مردم شماری کے مطابق ہوگی، جسے پارلیمنٹ منظور کرے گی۔ حد بندی کمیشن ریاستوں کے درمیان آبادی کی بنیاد پر نمائندگی کے فرق کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ شمالی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان توازن قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ساتھ ہی 106ویں آئینی ترمیم کے تحت 33 فیصد خواتین ریزرویشن کو نئی حد بندی کے ساتھ نافذ کرنے کی بھی راہ ہموار ہوگی، جس سے خواتین کی نمائندگی میں اضافہ متوقع ہے
