میرٹھ (ایجنسی) پیر کی شب میرٹھ کے علاقے لساڑی گیٹ تھانہ کے تحت قدوائی نگر میں ایک تین منزلہ مکان میں خوفناک آتشزدگی کے باعث 5 بچوں سمیت 6 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا۔اطلاعات کے مطابق قدوائی نگر کی اسلام آباد گلی نمبر 3 میں کپڑے کے تاجر اقبال احمد کا تین منزلہ مکان ہے۔ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر “آئی سنز ایمبرائیڈری” کے نام سے پاور لوم مشینوں پر کپڑا تیار کرنے کا کارخانہ قائم ہے، جبکہ اوپر کی دو منزلوں پر اہل خانہ رہائش پذیر تھے۔پیر کی رات اچانک عمارت سے دھواں اٹھنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے شدت اختیار کر
لی۔ شعلے تیزی سے پھیل گئے اور عمارت کی بالائی منزلیں لپیٹ میں آ گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اندر موجود خواتین اور بچوں کی جانب سے مدد کے لیے چیخ و پکار کی آوازیں آتی رہیں، مگر آگ اور دھوئیں کی شدت کے باعث کوئی اندر داخل نہ ہو سکا۔مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی، کسی نے پانی کی بالٹیاں لائیں تو کسی نے دروازہ توڑنے کی کوشش کی، لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ اطلاع ملنے پر فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔حادثے میں عاصم کی اہلیہ رخسار، ان کا تین سالہ بیٹا اقدس، چھ ماہ کی جڑواں بچیاں نبیہ اور عنایت، جبکہ فاروق کی بیٹی مہوش اور بیٹا حماد جاں بحق ہو گئے۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔واقعے کے وقت اقبال احمد نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد گئے ہوئے تھے، جس کے باعث وہ محفوظ رہے۔ اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ، ایس ایس پی اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حادثہ شارٹ سرکٹ کے باعث پیش آیا، تاہم حتمی وجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور اہل محلہ غم و صدمے سے نڈھال ہیں۔
