چین: ہنان میں پٹاخہ فیکٹری دھماکہ، 21 ہلاکتیں، جدید روبوٹس کے ساتھ بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری
وسطی چین کے صوبہ ہنان میں واقع ایک پٹاخہ فیکٹری میں زوردار دھماکے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس افسوسناک حادثے میں اب تک 21 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 61 سے زائد زخمی ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے اور فضا دھوئیں سے بھر گئی۔
یہ واقعہ ہنان کے علاقے لیویانگ میں پیر کی شام تقریباً 4:40 بجے پیش آیا، جس کے فوراً بعد صوبائی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات نافذ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ پانچ خصوصی ٹیموں پر مشتمل 482 اہلکار جائے وقوعہ پر سرگرم ہیں اور مسلسل ملبہ ہٹا کر متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں۔
امدادی کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو تین جدید روبوٹس فراہم کیے گئے ہیں، جو انسانی اہلکاروں کے ساتھ مل کر گرڈ سسٹم کے تحت پورے علاقے کی باریک بینی سے جانچ کر رہے ہیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد تک جلد رسائی ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ 20 مختلف مقامات پر عارضی ریسکیو سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے، کیونکہ فیکٹری کے اندر بلیک پاؤڈر کے دو بڑے ذخیرے موجود ہیں، جو مزید دھماکوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر ایک کلومیٹر کے علاقے کو ’کور زون‘ جبکہ تین کلومیٹر تک کے علاقے کو ’کنٹرول زون‘ قرار دے کر مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید کسی حادثے سے بچنے کے لیے فیکٹری کے اطراف حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے اور بارود کو غیر مؤثر بنانے کے لیے مسلسل پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کمپنی کے چند اعلیٰ افسران کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ دھماکے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
