پنجاب کے پٹیالہ ضلع میں راجپورہ اور شمبھو ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان واقع ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور (DFCC) کی ریلوے لائن پر دیر رات ایک زور دار دھماکہ پیش آیا، جس کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی، جس سے مقامی لوگوں میں شدید گھبراہٹ پیدا ہو گئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF)، جی آر پی اور مقامی پولیس کے سینئر افسران فوراً موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر جانچ شروع کر دی گئی۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ریلوے ٹریک پر ہونے والے اس دھماکے کو کسی بڑی سازش یا دہشت گردانہ کوشش کے زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر ٹریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہو۔سیکیورٹی ایجنسیوں کو فوری طور پر الرٹ کر دیا گیا ہے اور خفیہ ادارے بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ پورے علاقے کو سیل کر کے ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے تاکہ دھماکے کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن خفیہ ایجنسیاں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اس کے پیچھے کسی منظم گروہ یا خاص تنظیم کا ہاتھ تو نہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ دن پہلے ہی چندی گڑھ کے سیکٹر 37 میں واقع پنجاب بی جے پی دفتر کے باہر پارکنگ ایریا میں بھی دھماکہ ہوا تھا، جس کے بعد سیکیورٹی نظام پر کئی سوالات اٹھے تھے۔
اسی سال چند ماہ قبل پنجاب کے فتح گڑھ صاحب ضلع کے سرہند علاقے میں بھی مال گاڑی کے ٹریک پر زور دار دھماکہ ہوا تھا، جس میں ریلوے لائن کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا اور مال گاڑی کا انجن بھی متاثر ہوا تھا۔
پٹیالہ کا یہ تازہ واقعہ ایک بار پھر پنجاب میں ریلوے سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات پر سنگین سوال کھڑے کر رہا ہے۔
