مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر امن کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ایران کی جانب سے جنگ بندی اور تنازع ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا، جس کے بعد خطے میں حالات مزید کشیدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے فوراً بعد عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عالمی معیشت پر نئے دباؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے چند اہم شرائط پیش کی تھیں، جن میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز میں اپنی خودمختاری کو تسلیم کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایرانی تیل کی برآمدات بحال کرنا شامل تھا۔ ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا مسئلہ بھی مذاکرات کا حصہ بنایا تھا، جہاں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے تہران کی تجاویز کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ موجودہ شرائط پر کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے بعد خطے میں جنگ مزید طول پکڑنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
ادھر تیل کی عالمی منڈی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 ڈالر فی بیرل اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو دنیا بھر میں ایندھن، تجارت اور سپلائی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی اہم آبی راستے سے گزرتا ہے۔
