جاپان ایک بار پھر زلزلے کے شدید جھٹکوں سے لرز اٹھا۔ پیر کی علی الصبح شمالی جاپان کے علاقے ہوکائیڈو میں ریکٹر اسکیل پر 6.1 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا، جس کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی شہری گھبرا کر اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ خوش آئند بات یہ رہی کہ اب تک کسی جانی نقصان یا بڑے مالی خسارے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق زلزلے کا مرکز ہوکائیڈو کے چھوٹے شہر سارابیتسو سے تقریباً 18 کلومیٹر مغرب میں واقع تھا، جبکہ اس کی گہرائی زمین کے اندر تقریباً 81 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلہ زیادہ گہرائی میں آنے کی وجہ سے سطح پر تباہی نسبتاً کم رہی۔
[국외지진정보]2026-04-27 05:24:00 일본 훗카이도 아사히카와시 남남동쪽 143km 지역 규모 6.1 https://t.co/3FnC3cPtHo pic.twitter.com/FPgGoNnSqR
— 기상청 지진화산정보서비스 (@KMA_earthquake) April 26, 2026
زلزلے کے تیز جھٹکوں نے مقامی آبادی کو خوفزدہ کر دیا۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے اچانک جھٹکے محسوس کیے، گھروں میں رکھا سامان ہل گیا اور بعض مقامات پر اشیاء گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اس زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کا الرٹ جاری کیا گیا۔ یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 24 منٹ پر پیش آیا۔
ماہرین کے مطابق جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے اکثر آتے رہتے ہیں، کیونکہ یہ علاقہ زلزلہ خیز پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی شمالی جاپان کے قریب 7.7 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا تھا، جس کے بعد کچھ وقت کے لیے سونامی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔
حکام نے تازہ زلزلے کے بعد صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورت میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
