چنئی: تمل ناڈو میں سیاسی ڈرامہ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی قیادت میں بننے والی ممکنہ حکومت ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔ حلف برداری کی تیاریاں مکمل ہونے کے باوجود آخری لمحات میں اتحادی جماعت وی سی کے نے اپنی حمایت واپس لے لی، جس کے بعد ساری سیاسی صورتحال بدل گئی۔
اطلاعات کے مطابق ویٹری کزگم کے سربراہ وجے نے گورنر کو 116 اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط پیش کیا تھا، تاہم یہ تعداد حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت سے کم بتائی جا رہی ہے۔ اسی دوران یہ بھی سامنے آیا کہ پہلے کچھ جماعتوں کی حمایت شامل ہونے کے بعد عددی قوت 121 تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، مگر بعد میں ایک اہم جماعت نے اس تردید کر دی۔
ذرائع کے مطابق حلف برداری کی تقریب جمعہ کی شب سے پہلے طے تھی، لیکن حمایت کے خطوط پر اختلاف اور آخری وقت میں سیاسی رابطوں کی ناکامی نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔ گورنر ہاؤس کا کہنا ہے کہ جب تک تمام جماعتوں کی جانب سے باضابطہ حمایت کی تصدیق نہیں ہوتی، حلف برداری کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے۔ کانگریس کے چند اراکین اسمبلی کو چنئی سے منتقل کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہے۔ وی سی کے قیادت سے رابطے کی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن ابھی تک کوئی حتمی جواب سامنے نہیں آیا۔
اسی دوران بعض اتحادی جماعتوں نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا جھکاؤ پہلے کی طرح کسی اور اتحاد کی طرف ہے، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔
ایک سابق اتحادی رہنما نے الزام عائد کیا ہے کہ حمایت کے خطوط کے معاملے میں غیر شفاف طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں اور ممکنہ طور پر سیاسی دباؤ یا ارکان کی خرید و فروخت جیسے الزامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ ہونی چاہیے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔
تمل ناڈو میں جاری اس سیاسی کشمکش نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ حکومت سازی کا عمل صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ سیاسی اعتماد اور استحکام پر بھی منحصر ہوتا ہے، جو اس وقت شدید بحران کا شکار نظر آ رہا ہے۔
