نیٹ یو جی 2026 امتحان سے جڑا معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن (ایف اے آئی ایم اے) نے عدالت میں عرضی دائر کرتے ہوئے امتحانی نظام پر کئی سنگین سوالات اٹھائے ہیں اور بڑے پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں نیٹ جیسے قومی امتحانات کی شفافیت اور ساکھ متاثر ہوئی ہے، کیونکہ پرچہ لیک ہونے، تکنیکی خرابیوں اور انتظامی کمزوریوں کی شکایات بار بار سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی وجہ سے لاکھوں طلبہ اور والدین کے اعتماد میں کمی آئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یا تو نیٹ یو جی 2026 کے پورے عمل کو دوبارہ کرایا جائے، یا پھر اسے عدالتی نگرانی میں منعقد کیا جائے تاکہ امتحان مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار رہے۔ ایف اے آئی ایم اے نے خاص طور پر قومی امتحانی ایجنسی (این ٹی اے) کے کام کاج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی کارکردگی مسلسل تنازعات میں رہی ہے، اس لیے یا تو اسے ختم کیا جائے یا پھر اس کی مکمل تنظیم نو کر کے ایک مضبوط، جدید اور خود مختار امتحانی ادارہ قائم کیا جائے۔
عرضی میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ جب تک نیا آزاد امتحانی نظام نافذ نہیں ہوتا، تب تک نیٹ یو جی 2026 کے تمام انتظامات ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی نگرانی میں کیے جائیں۔ اس کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے پاس ہو اور اس میں سائبر سیکیورٹی اور فارنسک ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ تنظیم نے امتحانی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل لاکنگ نظام اور سخت سیکیورٹی اصول اپنانے پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی روایتی آف لائن امتحان کے بجائے کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام نافذ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
درخواست میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) چار ہفتوں کے اندر سپریم کورٹ میں تفصیلی صورتحال رپورٹ جمع کرے، جس میں جاری تحقیقات، پرچہ لیک کرنے والے نیٹ ورک، گرفتار افراد اور آئندہ کارروائی سے متعلق مکمل معلومات شامل ہوں۔ اس کے علاوہ نیٹ یو جی 2026 کے مرکز وار نتائج عام کرنے کی مانگ بھی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی بے ضابطگی یا مشتبہ سرگرمی کی آسانی سے جانچ ہو سکے اور امتحانی عمل میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
