Frankfurt, Germany - June 3, 2010: Air India Boeing 777-300ER taking off from the Frankfurt International Airport.
نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، فضائی حدود کی بندش اور جیٹ فیول کی بڑھتی قیمتوں کے سبب ایئر انڈیا نے اپنے متعدد بین الاقوامی روٹس پر پروازوں میں عارضی کمی اور تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ ایئرلائن کے مطابق یہ تبدیلیاں جون سے نافذ ہوں گی اور اگست تک جاری رہیں گی۔
ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے باعث کچھ بین الاقوامی روٹس پر آپریشن چلانا مالی اور تکنیکی طور پر مشکل ہو گیا ہے، اسی لیے 29 بین الاقوامی راستوں پر فلائٹ شیڈول میں تبدیلی کی جا رہی ہے تاکہ آخری وقت کی منسوخی اور مسافروں کی پریشانی کو کم کیا جا سکے۔
ایئرلائن کے مطابق امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیا جانے والی کئی پروازوں کی تعداد کم کی جا رہی ہے جبکہ کچھ روٹس پر سروس عارضی طور پر بند بھی رہے گی۔ دہلی سے شکاگو، شنگھائی اور چنئی سے سنگاپور جیسی کچھ اہم پروازیں مکمل طور پر معطل رہیں گی، جبکہ دہلی-سان فرانسسکو، دہلی-ٹورنٹو، دہلی-پیرس اور دہلی-سڈنی سمیت کئی روٹس پر ہفتہ وار پروازیں کم کر دی گئی ہیں۔
اس کے باوجود ایئر انڈیا نے واضح کیا ہے کہ ہر ماہ 1200 سے زائد بین الاقوامی پروازیں جاری رہیں گی اور ایئرلائن کا عالمی نیٹ ورک پانچ براعظموں تک بدستور فعال رہے گا۔
کمپنی نے متاثرہ مسافروں کو متبادل پرواز، مفت تاریخ تبدیلی یا مکمل رقم واپسی کی سہولت دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ مسافروں کی مدد کے لیے 24 گھنٹے کسٹمر سپورٹ اور آن لائن خدمات دستیاب رہیں گی۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے فضائی کمپنیوں کے اخراجات میں زبردست اضافہ کر دیا ہے، جس کے اثرات اب بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔
