نیٹ پیپر لیک معاملہ ایک بار پھر قومی سیاست کا بڑا موضوع بن گیا ہے۔ سی بی آئی کی جانب سے پانچ ملزمان کی گرفتاری کے بعد تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے تھلاپاتھی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے نیٹ امتحان کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ نیٹ امتحان دیہی علاقوں، سرکاری اسکولوں اور علاقائی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ناانصافی کا سبب بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کو اختیار دیا جانا چاہیے کہ وہ بارہویں جماعت کے نمبروں کی بنیاد پر میڈیکل کورسز میں داخلے کریں۔
سی بی آئی کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان میں مہاراشٹرا، راجستھان اور ہریانہ کے افراد شامل ہیں۔ ایجنسی نے کئی مقامات پر چھاپے مار کر موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کیے ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ پورے پیپر لیک نیٹ ورک کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس معاملے میں راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ کے ساتھ مشترکہ کارروائی جاری ہے جبکہ کئی مشتبہ افراد کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔ سی بی آئی نے یقین دلایا ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ کی جائیں گی۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مسلسل سامنے آنے والے پیپر لیک واقعات نے طلبہ اور والدین کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ مرکزی حکومت اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد نیٹ امتحان کے نظام میں کیا تبدیلیاں لاتی ہے۔
