آسام کی سیاست میں ایک بڑا آئینی اور سماجی قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی کابینہ نے ریاست میں یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کے مسودے کو منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ بل 26 مئی کو اسمبلی اجلاس کے آخری دن پیش کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کابینہ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ فیصلہ بی جے پی کے انتخابی وعدے کے مطابق لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آسام کو ایک ایسا قانونی نظام دیا جائے گا جس میں شادی، طلاق، وراثت اور لیو اِن ریلیشن جیسے معاملات کے لیے یکساں قوانین نافذ ہوں گے۔
#WATCH | Guwahati | Assam CM Himanta Biswa Sarma says, "We committed in the BJP's election manifesto that we will implement UCC in Assam. So we decided in the very first Cabinet that on 25 May, when our Assembly session begins, we will present the UCC bill in front of the… pic.twitter.com/QIfbKcYkA2
— ANI (@ANI) May 13, 2026
ہیمنت بسوا سرما نے واضح کیا کہ ریاست کی قبائلی برادریوں کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا تاکہ ان کی روایات، رسم و رواج اور ثقافتی شناخت متاثر نہ ہو۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی معاشروں کے مخصوص قوانین اور روایات کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ، گوا اور گجرات میں بھی یو سی سی نافذ کیا جا چکا ہے، لیکن آسام کا ماڈل ریاست کی مقامی ضروریات اور سماجی ڈھانچے کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ حکمراں جماعت اسے سماجی انصاف اور یکساں حقوق کی سمت ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر وسیع مشاورت ضروری ہے۔
ریاستی اسمبلی کا خصوصی اجلاس 21 سے 24 مئی تک منعقد ہوگا، جس میں نومنتخب اراکین حلف لیں گے۔ اس کے بعد 26 مئی کو یو سی سی بل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس اعلان کے بعد آسام کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر شدید سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
