اورنگ آباد: شہر میں مٹی کے تیل کی سپلائی دوبارہ شروع کرنے کے سرکاری احکامات کے باوجود غریب ہاکرس اور خوردہ مٹی کے تیل لائسنس یافتگان کو اب تک تیل فراہم نہ کیے جانے پر شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اس مسئلے کو لے کر آل مہاراشٹر کیروسین ہاکرس اینڈ ریٹیلرز فیڈریشن نے ضلع سپلائی افسر کو ایک تحریری درخواست پیش کرتے ہوئے فوری سپلائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ شہر کے کئی خاندان گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں سے مٹی کے تیل کی فروخت کے ذریعے اپنا روزگار چلا رہے تھے، لیکن 2018 کے بعد سپلائی بند ہونے سے سینکڑوں افراد معاشی بحران کا شکار ہو گئے۔ ان کے مطابق بے روزگاری اور مالی پریشانی نے کئی خاندانوں کو فاقہ کشی کے قریب پہنچا دیا ہے۔
فیڈریشن کے رہنماؤں احمد خان رشید خان اور بندہ نواز نے کہا کہ حالیہ دنوں میں گھریلو گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث غریب اور متوسط طبقہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں کم قیمت پر مٹی کا تیل دستیاب ہونا عوام کے لیے بڑی راحت ثابت ہو سکتا ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت نے ضلع سطح پر دوبارہ مٹی کے تیل کی تقسیم شروع کرنے کی ہدایت دی تھی، مگر اس کے باوجود شہر کے لائسنس یافتگان کو اب تک سپلائی نہیں دی گئی۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مٹی کے تیل کی فراہمی شروع کر کے ہاکرس اور خوردہ فروشوں کو دوبارہ روزگار فراہم کیا جائے۔
تنظیم کی جانب سے سپلائی محکمہ کے ساتھ ہوئی سابقہ خط و کتابت کی نقول اور متاثرہ لائسنس یافتگان کی فہرست بھی درخواست کے ساتھ جمع کرائی گئی ہے۔ فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد سپلائی بحال نہ کی گئی تو متاثرین احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
