نئی دہلی: سمندری سیاحتی جہاز پر ہنتا وائرس کے کئی معاملے سامنے آنے کے بعد ہندوستانی محکمۂ صحت نے ملک بھر میں نگرانی کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی اور عالمی طبی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق متاثرہ جہاز پر وائرس سے متاثر ہونے کے آٹھ مشتبہ معاملے رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے پانچ افراد میں انفیکشن کی تصدیق ہو چکی ہے۔ طبی اطلاعات کے مطابق اس وبا سے اب تک تین افراد کی موت بھی ہو چکی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انفیکشن ہنتا وائرس کی ایک ایسی قسم سے جڑا ہوا معلوم ہو رہا ہے جو محدود حد تک ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم بتایا جا رہا ہے، لیکن احتیاطی اقدامات میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا رہی۔
وزارتِ صحت، قومی مرکز برائے امراض کنٹرول اور عالمی ادارۂ صحت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مختلف طبی ایجنسیاں مشترکہ طور پر مسافروں کی نگرانی، طبی جانچ، اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق جہاز پر موجود دو ہندوستانی شہریوں میں فی الحال بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی، تاہم احتیاط کے طور پر انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ صحت افسران کا کہنا ہے کہ وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، اسی لیے مسلسل نگرانی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔
صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں ہنگامی تیاریوں، اسپتالوں کی صورتحال اور حفاظتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزارتِ صحت نے یقین دلایا ہے کہ عوام کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
