پرسنل لا کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہم شریعت کو اپنی زندگیوں میں نافذکریں۔‘‘
خالد سیف اللہ رحمانی صدر بورڈ
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
آج میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کی تعلیمات کو بدنام کرنے اور ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، خاص طور پر ہمارے نوجوانوں کو نشانہ بنا کر انہیں گمراہ کیا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایسے گھرانوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں جہاں دین کا چرچا ہوتا ہے اور مذہبی پس منظر پایا جاتا ہے، مگر ان کے ذہنوں میں غلط فہمیاں بٹھائی جا رہی ہیں، ان غلط فہمیوں کو دور کرنا اور ان کے دل و دماغ کو مطمئن کرنا ہم علماء کی ذمہ داری ہے، اور یہ کام محض حکمت اور مجادلۂ حسنہ ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بورڈ کے زیراہتمام ندوةالعلماء میں منعقدہونے والے دو روزہ تفہیم شریعت ورکشاپ میں کیا۔
صدر بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے دعوت کے کام میں ہمیشہ تدریج اور مخاطب کی ذہنیت کا خیال رکھا، یہی وجہ ہے کہ جب اہلِ مکہ سے خطاب فرمایا تو ان کی نفسیات کے مطابق اسلام قبول کرنے پر پورے عرب کی حکمرانی کی بشارت دی، جبکہ اہلِ مدینہ کو مخاطب کیا تو ان کے باہمی انتشار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اتحاد و بھائی چارے کی خوش خبری سنائی، اسی طرح جب حضرت معاذؓ کو اہل یمن کے پاس روانہ فرمایا تو دعوت میں تدریج کا خیال رکھنے کی تلقین فرمائی،انہوں نے مزید کہا کہ تفہیمِ شریعت کے لیے ضروری ہے کہ ہم مخاطب کی ذہنی سطح اور اس کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
افتتاحی نشست کا آغاز قاری بدرالدجیٰ فرقانی کی تلاوت سے ہوا، ان کے بعد محمد کیف اور ان کے رفقاء نے ترانہ ندوہ پیش کیا۔
مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی (کنوینر تفہیم شریعت کمیٹی)نے موضوع کی اہمیت و نزاکت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تفہیمِ شریعت کا کام انتہائی بنیادی اور وقت کی اہم پکار ہے۔ آج ملک میں جو حالات پیدا کیے جا رہے ہیں اور اسلام کو جس طرح بدنام کیا جا رہا ہے اور اس کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، وہ نہایت تشویش ناک ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ برادرانِ وطن تو اپنی جگہ، ہمارا وہ طبقہ بھی جو ’’مثقف‘‘ اور ’’انٹیلیکچول‘‘ کہلاتا ہے وہ بھی حقیقت اسلام سے بڑی حد تک ناواقف ہے۔ ان حالات میں ایسے پروگراموں کی سخت ضرورت ہے جن میں لوگوں کے سامنے اسلام کے حقائق پیش کیے جائیں، خصوصاً اس طبقے کو مدعو کیا جائے جو فکری اور علمی حلقوں سے وابستہ ہے، تاکہ ان کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر آ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف مسلمانوں ہی کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا اہم تقاضا ہے؛ اس لیے کہ آج پوری دنیا، بالخصوص ہمارا ملک، جن مسائل اور بحرانوں سے دوچار ہے، ان کا حقیقی حل صرف اسلام کے پاس ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو کتابوں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کی عملی ترجمانی بہت کم نظر آتی ہے۔
پروگرام میں افتتاحی خطاب مولانا عتیق احمد بستوی نے کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ احکامِ شریعت مکمل طور پر حکمت، عدل اور رحمت پر مبنی ہیں، بلکہ ان کا مقصد انسانیت کی ضروریات کی تکمیل اور فلاح ہے۔ اگر کوئی چیز غیر مصلحت آمیز، غیر حکیمانہ یا انسانیت کے لیے زحمت اور پریشانی کا باعث ہو، تو وہ کسی بھی قیمت پر شریعت کا حصہ نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی شریعت کے محاسن کو ملک گیر پیمانے پر پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ آج اسلام کے سلسلے میں جو مسلسل غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، وہ بڑی حد تک ہماری کوتاہی کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں لوگوں تک اسلام کے حقائق پہنچانے ہوں گے، اور یہ کام حکمت، پیار، محبت اور بہترین اندازِ گفتگو ہی کے ذریعے ممکن ہے۔
اس نشست سے مولانا خالد غازیپوری ندوی نے بھی پر مغز خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دین سراسر خیر خواہی کا نام ہے، اور دین کا صحیح فہم انسان کو ذلت و رسوائی سے نکال کر عزت و سربلندی تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ تفہیمِ شریعت ہی کے ذریعے معاشرے سے ہر قسم کی برائی، فتنہ اور فساد کو دور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فہم اور تفہیم دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اگر دین کا صحیح فہم نہ ہو تو عبادات بھی اپنی حقیقی روح کھو بیٹھتی ہیں۔ اس لیے عوام تک یہ پیغام پہنچانا ضروری ہے کہ جب تک دین کا صحیح فہم حاصل نہ ہو، نہ نماز درست طور پر ادا ہو سکتی ہے اور نہ روزہ صحیح معنی میں رکھا جا سکتا ہے؛ کیونکہ فہم کے بغیر ان احکام پر صحیح طور پر عمل کرنا ممکن نہیں۔
اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ پرسنل لا کے خلاف ایک منظم کوشش جاری ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کو پرسنل لا کے تعلق سے بدظن کرنا ہے۔ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ، جو عصری تعلیم یافتہ ہے، حتیٰ کہ وکلاء بھی، یا تو پرسنل لا سے واقف نہیں ہیں یا اس کے بارے میں غلط معلومات رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے، جبکہ دنیا ایک ’’گلوبل ولیج‘‘ بن چکی ہے، چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے پرسنل لا اور قانونِ شریعت سے دور کرنے کے لیے ایک گہری سازش چل رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک منظم کوشش کے تحت مسلمانوں کا صرف نام اسلامی باقی رکھا جائے، انہیں نماز اور روزہ کی اجازت تو ہو، لیکن ان کی معاشرتی زندگی سے اسلام اور شریعت کو نکال دیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جن میں حلال کو مشکل اور حرام کو آسان بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ شریعت اسلامی کو مسلم عوام کے سامنے مؤثر اور حکیمانہ انداز میں پیش کریں۔
یہ افتتاحی نشست صدر بورڈ کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد محاضرات کی پہلی نشست کا آغاز ہوا۔اس نشست میں مہان خصوصی کے طور پر مولاناعمار عبدالعلی ندوی، مولانا عبدالعزیز بھٹکلی ندوی، مولانا کمال اختر ندوی ، مولانا خلیق احمد ندوی اور ڈاکٹر شعیب قریشی موجود تھے۔
محاضرات کی پہلی نشست میں دومحاضرے پیش کیے گئے ؛ایک ’’نفقہ مطلقہ ‘‘سے متعلق جبکہ دوسرا تعدد ازدواج ‘‘سے متعلق۔
نظامت کے فرائض مولانا سلمان نسیم ندوی نے انجام دیے۔ انہوں نے اپنی تمہیدی گفتگو میں دونوں موضوعات کے اہم نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں مسائل کو اسلامی قانون کی نارسائی اور صنفِ نازک پر ظلم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں قوانین پوری انسانیت کے لیے سراپا رحمت ہیں، اور اس حقیقت کو ہم آئندہ محاضرات میں بخوبی سمجھ سکیں گے۔
پہلا محاضرہ مفتی نصراللہ ندوی نے پیش کیا، جس کا موضوع ’’نفقۂ مطلقہ‘‘ تھا۔ موصوف نے اپنے محاضرے میں کہا کہ آئینِ ہند میں مسلمانوں کو 1937ء کے شریعت اپلیکیشن ایکٹ کے تحت پرسنل لا کے مسائل میں اسلامی شریعت پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے، بلکہ عدالتوں کو بھی اس کا پابند بنایا گیا ہے کہ جب دونوں فریق مسلمان ہوں تو پرسنل لا کے مسائل میں شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔ لیکن آزاد ہندوستان میں کئی مواقع ایسے آئے جب عدالتوں نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا، اور یہ محسوس ہوا کہ جج حضرات آئین کے مطابق فیصلے کرنے کے بجائے خود آئین میں مداخلت کرنے لگے۔ اس کی ایک واضح مثال شاہ بانو کیس ہے۔
انہوں نے نفقۂ مطلقہ کے مسئلے پر شریعت اور فہمِ شریعت کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے نفقہ کے مفہوم کو واضح کیا، اور عدالت کی جانب سے اس کی جو غلط تشریح کی گئی ہے، اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ موصوف نے یہ بھی کہا کہ جہاں کہیں بھی اس مسئلے میں تساہل برتا گیا ہے، وہاں اس کے سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ آج مغربی معاشرے میں نفقۂ مطلقہ استحصال کا ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ اسلام کا پیش کردہ نظام خیر و عافیت اور عدل و توازن کا ضامن ہے۔
دوسرے محاضرے کا عنوان ’’تعددِ ازدواج‘‘ تھا، جو مولانا محمد اسعد ندوی نے پیش کیا۔موصوف نے تعددِ ازدواج کو مذہبی، سماجی اور اخلاقی تینوں پہلوؤں سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب، خواہ سناتن دھرم ہو، یہودیت ہو یا مسیحیت، ایسا نہیں جس میں تعددِ ازدواج کی مثالیں موجود نہ ہوں۔ ہندو دھرم کے بڑے دیوتاؤں کے بارے میں بھی کثرتِ ازدواج کے شواہد ملتے ہیں، اسی طرح یہودی پیغمبروں کی بھی متعدد بیویاں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر مردوں اور عورتوں کی شرحِ پیدائش تقریباً یکساں ہوتی ہے، لیکن شرحِ اموات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ مختلف جنگوں میں عموماً مرد ہی بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں ہلاک یا معذور ہونے والے مردوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی تھی۔ جرمنی میں ایک طویل عرصے تک ایک مرد کے مقابلے میں تین عورتیں موجود تھیں۔ اسی طرح جیلوں میں بھی عموماً مردوں کی تعداد زیادہ پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی سماجی ضرورت ہے جس میں تعددِ ازدواج معاشرتی توازن قائم رکھنے کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔ اگر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو معاشرے میں نہ صرف اخلاقی فساد اور بے راہ روی پھیلے گی بلکہ خاندانی نظام بھی تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔
محاضرات کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی، جس میں مندوبین نے مختلف سوالات کیے اور محاضرین نے تشفی بخش جوابات دیے۔آخر میں صدرِ مجلس مولانا فضل الرحیم مجددی کا خطاب ہوا، جس میں آپ نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگراموں کا مقصد صرف معلومات فراہم کرانا نہیں، بلکہ دینِ اسلام کے صحیح فہم کو عام کرنا اور شریعتِ اسلامی کے تعلق سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علماء، دانشوروں اور نوجوانوں کو مل کر اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معاشرہ فکری انتشار اور اخلاقی گمراہی سے محفوظ رہ سکے۔صدر مجلس کی دعا پر اس نشست کا اختتام ہوا۔
تیسری نشست میں ججز کے اپروچ، آئینی اخلاقیات اور ‘سیاسی سول کوڈ’ کے خطرات پر ماہرینِ قانون کا تفصیلی اظہارِ خیال
تیسری اہم اور فکری نشست بعد نمازِ مغرب ‘حضرت حسن خان ٹونکی ہال’ میں منعقد ہوئی۔ اس اہم اکیڈمک سیشن کی صدارت صدر مفتی دارالعلوم ندوۃ العلماء شیخ نیاز احمد ندوی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا کمال اختر ندوی (مشیر ناظرعام ندوۃ العلماء) نے انجام دیے۔
نشست کا آغاز کرتے ہوئے ناظمِ اجلاس مولانا کمال اختر ندوی نے اپنے کلیدی کلمات میں مغرب کے دوغلے معیار کو بے نقاب کیا،انہوں نے فرمایا:
“دنیا کو خاص کر امریکہ اور یورپ کو مسلمانوں کی عبادات اور عقائد سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ وہ اصل میں یہ چاہتے ہیں کہ اسلامی نظام، اس کی خوبیوں، محاسن اور اس کے سراپا رحمت ہونے کی جھلک دنیا کے سامنے نہ آنے پائے؛ کیونکہ اگر یہ عادلانہ نظام دنیا میں نافذ ہو گیا، تو سارے نظامہائے باطل بکھر کر رہ جائیں گے۔ اسلام ابتدا ہی سے اپنے اندر ایک مکمل نظام ہے، جسے ایمانی اور عقلی طور پر تسلیم کرنا چاہیے، بلکہ پوری دنیا کا جائزہ لینے کے بعد دینِ اسلام ہی واحد فطری دین نظر آتا ہے۔”
مسلم پرسنل لا اور عدالتوں کا رویہ: مولانا تبریز عالم قاسمی
نشست کے پہلے محاضر مولانا تبریز عالم قاسمی (ارگنائزر دارالقضا کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) تھے، جنہوں نے “مسلم پرسنل لا کے متعلق عدالتوں کا رویہ” جیسے نازک موضوع پر انتہائی گہرائی سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے ججوں کے اپروچ اور عدالتی فیصلوں کی باریکیوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثر عدالتوں کی نکتہ چینی، غیر ضروری مباحث اور نامناسب فیصلوں کی وجہ سے مسلم پرسنل لا کے متعلق غلط فہمیاں عام ہوئی ہیں۔ چاہے آپ کسی بھی کیس کو لے لیجیے، عدالتوں کے فیصلے ہی موضوعِ بحث بن جاتے ہیں اور عوام میں اشکالات اور شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں۔
انہوں نے اس سلسلے میں علماء اور ماہرین کی توجہ درج ذیل تین بنیادی امور کی طرف مبذول کرائی:
ملک میں مسلم پرسنل لا کو تحفظ فراہم کرنے والی آئینی دفعات (Articles)۔
پرسنل لا کے متعلق طے شدہ قانونی ضابطے۔
موجودہ نازک حالات میں علماءِ وقت کی حقیقی ذمہ داری۔
مولانا تبریز عالم نے ممارستِ قانون کی تاریخ سے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کو اگر مطلق (بے لگام) کر دیا جائے گا، تو اصلاحِ معاشرے کے قوانین ہی کلعدم ہو جائیں گے؛ اور اگر مذہبی آزادی کا ذمہ حکومت کو دے دیا جائے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوگا۔ لہٰذا آئین میں تین شرطوں کے ساتھ مذہبی آزادی کو مقید کیا گیا ہے: (۱) مفادِ عامہ، (۲) امنِ عامہ، اور (۳) صحتِ عامہ۔ ان معاملات میں حکومت جب چاہے ضرورت کے مطابق قانون بنا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ جو مذہبی امور ‘ایسنشیل پارٹس’ (Essential Parts) یعنی ای آر پی (Essential Religious Practices) کے زمرے میں آتے ہیں، انہیں آرٹیکل 25 کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہونا چاہیے تاکہ حکومت ان کے خلاف قانون نہ بنا سکے۔ اس کے برعکس جو معاملات سیکولر نوعیت کے ہیں، جیسے انتظام وانصرام، ان میں حکومت تین شرطوں کے ساتھ قانون بنا سکتی ہے۔ لیکن اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مذہب کی کون سی شے لازمی ہے اور کون سی نہیں، یہ طے کون کرے گا؟ اس کا طریقہ یہ طے ہوا تھا کہ متعلقہ مذہب کی کتابوں، کسٹمز اور رواج کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ کیا لازمی ہے اور کیا نہیں، اور جو لازمی ہوگا اسے آرٹیکل 25 کا تحفظ ملے گا اور جو لازمی نہیں ہوگا اس میں حکومت سنشودھن (ترمیم) اور ریگولیٹ کر سکتی ہے۔ اسی ابہام کا نتیجہ تھا کہ بابری مسجد کے مسئلے میں یہ متنازع نکتہ آیا کہ مسجد اسلام کا لازمی جز نہیں ہے کیونکہ نماز کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
آئینی اخلاقیات (Constitutional Morality) کا خطرہ:
مولانا تبریز عالم نے سپریم کورٹ کے حالیہ رجحانات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے انگریزی مورخ جارج گروٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ آئین کا صرف ڈھانچہ بنا دینا کافی نہیں، بلکہ آئینی اخلاقیات کو بڑھاوا دینا ضروری ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس ‘آئینی اخلاقیات’ کو اس طریقے سے استعمال کیا کہ اب ‘سماجی و معاشرتی اخلاقیات’ اور ‘آئینی اخلاقیات’ میں سے ترجیح کونسٹیٹیوشنل موریلٹی (آئینی اخلاقیات) کو دی جا رہی ہے۔ آئینی اخلاقیات سے مراد آئین کی روح یعنی لبرٹی، ایکویلٹی، جسٹس، فریڈم اور فریٹرنٹی ہے، لیکن اس کی کوئی مستقل تعریف نہیں کی گئی۔ انہوں نے ہم جنسی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سماجی اور معاشرتی اخلاقیات اسے ناپسند کرتی ہیں، مگر کورٹ نے آئینی اخلاقیات کے پیشِ نظر اسے اجازت دے دی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اب عدالتوں میں مذہبی آزادی کی تعریف، موریلٹی کی ڈیفینیشن اور آرٹیکل 25 کے تحفظ پر مسلسل مباحث ہو رہے ہیں۔ کئی وکلاء نے کونسٹیٹیوشن موریلٹی کو ختم کرنے کی بات کی، تو اس کے مقابلے میں ‘سنسیرٹی آف بلیف’ (Sincerity of Belief) کا اصول لایا جا رہا ہے جو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔ سنسیرٹی آف بلیف کا مطلب یہ ہے کہ جج خود یہ جانچ کرے گا کہ کوئی مسئلہ اس کا لازمی حصہ ہے یا نہیں، اور یہ کہ پریکٹیکلی وہ بندہ اس پر قائم ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی جج کسی کو دیکھ کر کہے کہ تم نقاب یا حجاب نہیں کرتی ہو؛ تو اصول یہ بنا دیا جائے گا کہ جو شروع سے حجاب کرتی ہے اور اس کا ایمان مضبوط ہے اور واقعی وہ دھارمک (مذہبی) خاتون ہے تو اسے اجازت ہوگی، ورنہ دیگر کو اجازت حاصل نہ ہوگی ۔
علماء کے لیے لائحہ عمل : انہوں نے زور دیا کہ تفہیمِ شریعت کا مقصد یہی ہے کہ ہم وکلاء اور علماء کے درمیان تعلقات کو مضبوط کریں تاکہ کورٹ کی بحثوں میں وکلاء شریعت کو مدنظر رکھیں۔ ہمارے پاس دلائل اور ماخذ زیادہ تر عربی اور اردو میں ہیں، ان کا انگریزی میں ترجمہ ضرور ہونا چاہیے تاکہ وکلاء تک وہ باتیں پہنچیں، اور اس طرح کے پروگرام بار بار ہوتے رہنے چاہئیں
نشست کا دوسرا محاضرہ پروفیسر نسیم احمد جعفری (ڈین فیکلٹی آف لا، انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ) کا تھا، جنہوں نے “مسلم پرسنل لا کی اہمیت اور یو سی سی (UCC) کے نقصانات” کے زیرِ عنوان تفصیلی اکیڈمک گفتگو فرمائی۔ انہوں نے نہایت گہرائی، دقیقہ رسی اور قانونی بصیرت کے ساتھ مسلم پرسنل لا اور یکساں سول کوڈ دونوں کے دائرۂ کار کو واضح کیا۔ انہوں نے یکساں سول کوڈ کے فلسفہ، اس کے مقاصد اور اس کے قابلِ تنفیذ ہونے یا نہ ہونے کے سماجی پیچیدہ گیوں سے جڑے پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
پروفیسر جعفری نے یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ)، سملر سول کورٹ، کامن سول کوڈ، ہندو کوڈ اور پولیٹیکل یونیفارم سول کورٹ کی تشریح کرتے ہوئے اصل حقیقت واضح کی:
“ایک اصول تو یہ ہے کہ الگ الگ لوگوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لایا جائے اور ایک طرح کے لوگوں کے لیے ایک جیسا قانون فریم تیار کیا جائے۔ لیکن اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ یو سی سی نہیں، بلکہ اکثریت کا کلچر اقلیتوں پر نافذ کر دینے کی محنت ہے اور یہی دراصل ‘سیاسی سول کوڈ’ ہے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ یونیفارم سول کوڈ نافذ ہوتا ہے (جسے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیاں مل کر بناتی ہیں)، تو مسلمانوں کے نکاح، طلاق، ازدواجی پابندیوں، وراثت کی پابندیوں اور جائیداد وغیرہ کی منتقلی پر براہِ راست اور واضح اثر پڑے گا
دونوں لکچرز کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے مختلف قانونی، آئینی اور شرعی سوالات پیش کیے اور مقررین نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ ان کے تفصیلی جوابات دیے۔
اس موقع پر نامور عالمِ دین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے تفہیمِ شریعت کمیٹی کا شکریہ ادا کیا اور مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرسنل لا کے متعلق پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایسی مخلصانہ کوششیں مسلسل ہوتی رہنی چاہئیں۔
نشست کے آخر میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مفتی اور صدر مجلس حضرت مولانا مفتی نیاز احمد ندوی صاحب نے بصیرت افروز صدارتی خطاب فرمایا۔ انہوں نے نہایت معنی خیز اور دلچسپ پیرایۂ بیان میں مسلمانوں کو خود احتسابی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:
“ہمیں اپنے پروگرامز کو موثر بنانے کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم شریعت کو اپنی عملی زندگی پر نافذ کریں۔ ہمارے علماء وراثت کے مسائل پر خوب لمبی چوڑی تقریریں کرتے ہیں، لیکن عملاً ہمارے اپنے گھروں میں میراث صحیح اور شرعی اصولوں پر تقسیم نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے منصب اور عمل کو یکساں ملحوظ رکھنا ہوگا، تاکہ ہمارے یہ پروگرام سماج کیلئے اثر انداز ہو سکیں اور بدلتے حالات میں ہم شریعت کے صحیح فہم کے ساتھ ذاتی زندگی میں اس پر عمل پیرا ہو سکیں
نشست کا اختتام آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی رقت آمیز اور مختصر دعا پر ہوا، جس کے بعد یہ علمی و فکری مجلس اپنے اختتام کو پہنچی
چوتھی نشست 20/مئ کی صبح ۹ بجے منعقد ہوئی۔ اس نشست کی صدارت مولانا مفتی عتیق احمد بستوی نے انجام دی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا اصطفاء الحسن کاندھلوی ندوی نے انجام دیے۔
اس نشست میں تین محاضرے پیش کیے گئے۔ پہلا محاضرہ مفتی رحمت اللہ ندوی کا تھا، جس کا موضوع ’’اسلام کا نظامِ میراث‘‘ تھا۔ محاضر نے اسلامی نظامِ میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیگر عبادات فرض ہیں، اسی طرح میراث کے احکام بھی فرض ہیں، اسی لیے اس علم کو ’’علم الفرائض‘‘ کہا جاتا ہے۔موصوف نے مزید کہا کہ میراث کا تعلق نہ مرنے والے کی مرضی سے ہے اور نہ وارثین کی خواہش سے، بلکہ اس کا پورا نظام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے احکام کو قرآن و سنت میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔
دوسرے محاضرے کا عنوان ’’یتیم پوتے کی میراث‘‘ تھا۔ یہ محاضرہ مولانا مفتی ظفر عالم ندوی صاحب نے پیش کیا۔ انہوں نے یتیم پوتے کی میراث کے سلسلے میں شریعت کے اصولوں کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ میراث کی تقسیم کا معیار انسان کی ضرورت و حاجت، خدمت یا لیاقت نہیں ہے، بلکہ یہ شریعت کے تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔پہلا اصول قرابت کا ہے، یعنی وراثت کے لیے قرابت کا پایا جانا ضروری ہے۔ دوسرا اصول قرابت میں اقرب و ابعد کا ہے، یعنی قرابت میں جو جتنا زیادہ قریب ہوگا، وراثت کا وہی زیادہ حق دار ہوگا۔ یہ ممکن نہیں کہ اقرب کو چھوڑ کر ابعد کو وراثت دے دی جائے۔تیسرا اصول یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی زندہ انسان کا وارث نہیں ہوسکتا، اور ترکے میں حقِ وراثت صرف زندہ وارثوں ہی کا ہوتا ہے۔ اس لیے مورث سے پہلے وفات پاجانے والے وارث کو وراثت کا حق دار شمار نہیں کیا جائے گا۔موصوف نے اپنے موضوع کی وضاحت کے لیے مختلف نظریات کا تنقیدی جائزہ بھی پیش کیا۔
تیسرے محاضرے کا عنوان تھا ’’اسلام کا نظامِ طلاق اور مرد کو حقِ طلاق کیوں؟‘‘۔ یہ محاضرہ مولانا منور سلطان ندوی نے پیش کیا۔موصوف نے عقلی دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا کہ طلاق انسانی معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جس طرح نکاح کسی رشتے میں داخل ہونے کا ذریعہ ہے، اسی طرح اس سے نکلنے کا دروازہ بھی موجود ہونا ناگزیر ہے۔ نکاح ایک معاشرتی معاہدہ ہے، لہٰذا جب اسے قائم کرنے کا نظام موجود ہے تو اسے ختم کرنے کا بھی ایک منظم طریقہ ہونا چاہیے۔ جہاں یہ نظام موجود نہیں ہے، وہاں کا خاندانی نظام بڑی حد تک بکھر چکا ہے۔موصوف نے کہا کہ طلاق کا تعلق ’’فریڈم آف چوائس‘‘ سے ہے، یعنی اگر مرد یا عورت میں سے کسی پر ظلم ہورہا ہو تو اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے طلاق ایک ذریعہ ہے۔ البتہ اسلام نے اس آخری حل سے پہلے مفاہمت اور اصلاح کی مختلف صورتیں بھی رکھی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک میں طلاق کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے یا اس سلسلے میں بے جا سختیاں پائی جاتی ہیں، وہاں میاں بیوی ایک دوسرے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مختلف جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ دنیا نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ طلاق ایک ناگزیر ضرورت ہے، اور اس کا بہترین اور متوازن نظام اسلام نے پیش کیا ہے۔
ہر محاضرہ سے قبل ناظم اجلاس نے نہ صرف موضوع کا تعارف کرایا، بلکہ اس کے اہم نکات کی جانب بھی محاضرین کو متوجہ کیا تاکہ دورانِ محاضرہ ان پہلوؤں کی رعایت رکھی جاسکے۔ اسی طرح ہر محاضرہ کے بعد موصوف نے چند جملوں میں محاضرہ کا خلاصہ بھی پیش کیا، جس سے موضوع کا نچوڑ سامعین کے سامنے واضح انداز میں آگیا۔ محاضرات و خطابات کے بعد تقریباً ایک گھنٹے تک سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ مندوبین کی جانب سے مختلف سوالات کے گئے، جن کے تشفی بخش جوابات صدرِ مجلس مولانا مفتی عتیق احمد بستوی سکریٹری مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء لکھنؤ ، کنوینر دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تفہیمِ شریعت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ جو غلط فہمیاں پیدا ہوچکی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انہں دور کیا جائے۔ خاص طور پر مسلمانوں کو اس بات کا پابند بنانے کی کوشش کی جائے کہ وہ اپنے مسائل کا حل شریعت کی روشنی مںِ تلاش کریں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی فکر کریں
ان محاضرات کے بعد کنونیر تفہیم شریعت حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی کا خصوصی خطاب ہوا جس میں آپ نے کہا :’’تفہیمِ شریعت کے سلسلے میں مختلف محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ہمیں خود شریعت کا صحیح فہم حاصل کرنا ہوگا، پھر اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہوگا، اور اس کے بعد مختلف سطحوں پر اس کی تفہیم کی کوشش کرنی ہوگی۔یہ کوششیں تین سطحوں پر ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ جو انٹلیکچول طبقہ ہے، اس کے ساتھ نشستیں کی جائیں، خصوصاً وکلا اور جج صاحبان کے سامنے شریعت کے احکام کو واضح کیا جائے اور انہیں صحیح معلومات فراہم کی جائیں۔ اس کے بعد عوام میں تفہیمِ شریعت کے لیے مختلف اجتماعات منعقد کیے جائیں، نیز مساجد کو اس کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ خاص طور پر جمعہ کے خطبات میں اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تیسری سطح برادرانِ وطن سے ملاقاتوں کی ہے۔ ان کے سامنے براہِ راست تفہیمِ شریعت کی گفتگو کرنے کے بجائے اسلام کی وہ تعلیمات پیش کی جائیں جو پوری انسانیت کی بھلائی اور فلاح سے متعلق ہیں۔ اس مقصد کے لیے کارنر میٹنگوں کا سلسلہ مفید ثابت ہوگا۔ اسے ہم ’’پیامِ انسانیت‘‘کے عنوان سے بھی کرسکتے ہیں۔‘‘
اس خصوصی خطاب کے بعد حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمیں تفہیمِ شریعت کو ایک مستقل مشن کے طور پر اختیار کرنا ہوگا، تاکہ ہم عوام تک اسلام کی صحیح اور مستند تعلیمات پہنچا سکیں۔ لیکن اس سے پہلے اس کام کی اہمیت، اس کے تقاضوں اور اس کے صحیح طریقۂ کار کو سمجھنا ضروری ہے، کیوں کہ محض جذباتی انداز یا سطحی معلومات کے ذریعے شریعت کی مؤثر ترجمانی نہیں ہوسکتی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تفہیمِ شریعت کا اصل مفہوم یہی ہے کہ جو غلط فہمیاں پیدا ہوچکی ہیں یا پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انہیں دور کیا جائے۔ خاص طور پر مسلمانوں کو اس بات کا پابند بنانے کی کوشش کی جائے کہ وہ اپنے مسائل کا حل شریعت کی روشنی میں تلاش کریں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی فکر کریں۔
اس نشست کے بعد چوتھی اور آخری نشست منعقد ہوئی،
جس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد اسعد ندوی نے انجام دیے۔
اس نشست میں مولانا تبریز عالم صاحب نے ’’ تفہیمِ شریعت طریقہ کارکے موضوع پر اپنا محاضرہ پیش کیا اور تفہیمِ شریعت کے بینر تلے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کو نہایت عمدگی کے ساتھ پیش کیا۔انہوں نے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اصل مقصد غلط فہمیوں کو دور کرنا اور مختلف سطحوں پر پیدا ہونے والے نئے مسائل، یا پیدا کیے جانے والے شبہات، کا بروقت نوٹس لے کر ان کا مناسب حل پیش کرنا ہے۔ اس سلسلے میں مسلم اور غیر مسلم وکلا کے ساتھ ملاقاتوں اور افہام و تفہیم کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان ذہنوں میں جو اشکالات پیدا ہوتے ہیں، انہیں دور کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے، اور عصری و تازہ موضوعات پر مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت بورڈ کی جانب سے آن لائن کلاسز کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تھا، جس سے بڑی تعداد میں لوگوں نے استفادہ کیا۔موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ہر سطح پر افرادِ کار کی ضرورت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ حضرات اپنے اپنے علاقوں میں تفہیمِ شریعت کے اس اہم فریضے کو انجام دیں گے۔ اس سلسلے میں ہر طرح کے تعاون، رہنمائی اور علمی معاونت کے لیے ہم ہمیشہ تیار ہیں۔
صدرِ مجلس حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے تفہیمِ شریعت کی ضرورت، اہمیت اور اس کے مؤثر طریقۂ کار پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ ذراٖیر مسلم معاشرے کا جائزہ لے کر دیکھیے کہ وہاں خودکشی کے واقعات کس قدر کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ حالاں کہ ان کے پاس ہم سے زیادہ تعلیم، زیادہ ملازمتیں اور زیادہ مادی وسائل موجود ہیں، لیکن ان کے پاس ہمارے جیسا مضبوط عائلی نظام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں خاندانی انتشار اور ذہنی بے سکونی کے باعث خودکشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔مولانا نے فرمایا کہ ہمارے یہاں طلاق کا جو متوازن اور منظم نظام ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ایک رحمت ہے۔ بلاشبہ طلاق سے وقتی طور پر تکلیف اور رنج پیدا ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ مستقل اذیت اور ناقابلِ برداشت تعلق سے نجات کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ اسلام نے نکاح کے ساتھ ساتھ علیحدگی کے بھی مہذب اور منصفانہ اصول مقرر کیے ہیں، تاکہ زندگی بے اعتدالی اور ظلم کا شکار نہ ہو۔مولانا نے مزید فرمایا کہ موجودہ دور میں سب سے زیادہ مسلم لڑکیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے ذہنوں میں اسلام اور شریعت کے تعلق سے مختلف شکوک و شبہات پیدا کیے جارہے ہیں۔ اس لیے خاص طور پر خواتین اور بچیوں کے درمیان مؤثر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی حدود و آداب کی پابندی کے ساتھ انہیں تفہیمِ شریعت کی دعوت دی جائے اور یہ بتایا جائے کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کیے ہیں، وہ ان کی فطرت، عزت اور تحفظ کے عین مطابق ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد ہی مسلمانوں، خصوصاً خواتین کے دینی و عائلی حقوق کا تحفظ تھا، جب کہ دیگر مذاہب کے پرسنل لا کے نظام میں اس طرح کے جامع اور منظم تحفظ کا تصور بہت کم پایا جاتا ہے۔آخر میں مولانا نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ورک شاپ شرکا کے اندر تفہیمِ شریعت کے جذبے کو مزید مضبوط کرے گا اور وہ اپنے اپنے علاقوں میں اس پیغام کو عام کرنے میں فعال کردار ادا کریں گے۔
آخر میں حضرت مولانا حکیم عمار عبدالعلی حسنی ندوی (ناظرِ عام ندوۃ العلماء) نے اس دو روزہ ورک شاپ کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس موضوع کی انفرادیت اور اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس دو روزہ اجلاس میں نہایت قیمتی مقالات اور مؤثر خطابات پیش کیے گئے، نیز نئے اور سلگتے ہوئے مسائل پر سنجیدہ تبادلۂ خیال کیا گیا۔مولانا نے فرمایا کہ یقیناً ہماری ذمہ داری ہے کہ ان تمام مسائل کو خود بھی صحیح طور پر سمجھیں اور عوام تک بھی صحیح انداز میں پہنچائیں۔ اس مقصد کے لیے جدید وسائلِ ابلاغ اور عصری ذرائع کو بھی مؤثر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے، خواہ مسائل عبادات سے متعلق ہوں، معاملات سے، یا پرسنل لا سے وابستہ ہوں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں تفہیمِ شریعت کا کام محض علمی ضرورت نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری بن چکا ہے، جس کے لیے حکمت، بصیرت اور حسنِ اسلوب کے ساتھ میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔آخر میں مولانا نے تمام مہمانوں، محاضرین، اساتذہ، طلبہ اور اجلاس میں شریک تمام اراکین و معاونین کا شکریہ ادا کیا اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو امت کے لیے نافع اور مفید بنائے۔
صدر مجلس کی دعا پر یہ دو روزہ تفہیم شریعت ورک شاپ بحسن وخوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔
