نئی دہلی: مشرقی دہلی کے ترلوک پوری علاقے میں 16 سالہ مدرسہ طالب علم ایان سیفی کے قتل کے بعد غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ Jamiat Ulama-i-Hind کی دہلی یونٹ نے واقعہ پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری کی قیادت میں ایک وفد مقتول طالب علم کے گھر پہنچا، جہاں اہل خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت پیش کی گئی اور ہر ممکن قانونی، سماجی اور مالی تعاون کا یقین دلایا گیا۔ وفد نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر Mahmood Madani کا تعزیتی پیغام بھی متاثرہ خاندان تک پہنچایا۔
اس موقع پر ایان سیفی کی والدہ اور نانی نے واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے شدید غم اور صدمے کا اظہار کیا۔ مولانا محمد قاسم نوری نے کہا کہ ایک بیوہ ماں کے اکلوتے بیٹے کا اس طرح بے رحمی سے قتل انتہائی افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جمعیۃ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کرے گی۔
جمعیۃ کے وفد نے مقامی پولیس افسران سے بھی ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ معاملے کو پوری سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے۔ وفد کا کہنا تھا کہ دن دہاڑے ایک نوجوان کا قتل عوام میں خوف اور بے چینی پیدا کرنے والا واقعہ ہے، اس لیے تمام ملزمان کو جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی حکومت سے مقتول کی والدہ کے لیے مناسب معاوضہ اور مستقل مدد فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق ایان سیفی ایک بیوہ ماں کا واحد سہارا تھا، جبکہ اس کی والدہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وفد کی آمد کے دوران گھر کا ماحول انتہائی افسردہ رہا اور اہل خانہ بار بار آبدیدہ ہو گئے۔ اس موقع پر جمعیۃ کی جانب سے فوری مالی امداد بھی پیش کی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ ایان سیفی Jamia Hidayah کا طالب علم تھا اور قرآن کریم کے کئی پارے حفظ کر چکا تھا۔ اہل خانہ اور عینی شاہدین کے مطابق 30 اپریل کی شام وہ اپنے دوست کے ساتھ پارک میں موجود تھا کہ اسی دوران چند افراد نے اس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ حملے میں وہ شدید زخمی ہو گیا، جسے پہلے لال بہادر شاستری اسپتال اور بعد میں ایمس ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں دوران علاج اس کا انتقال ہو گیا۔
خاندان کا دعویٰ ہے کہ ایان نے ہوش میں آنے کے بعد بعض حملہ آوروں کی شناخت بھی کی تھی اور پولیس کو بیان دیا تھا۔ پولیس نے معاملہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
