اورنگ آباد: ضلع میں جعلی اور ملاوٹی دودھ کے بڑھتے ہوئے کاروبار پر ضلع پریشد انتظامیہ نے سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔ ضلع پریشد کی اینیمل ہسبنڈری و ڈیری کمیٹی کے چیئرمین جتیندر جیسوال کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوام کی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں محکمہ حیوانات سے متعلق مختلف زیر التوا مسائل، دیہی علاقوں میں ویٹرنری سہولیات کی کمی، خالی آسامیوں، ویکسینیشن مہم اور بیمار و مردہ جانوروں کو ٹھکانے لگانے کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ چیئرمین نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ تمام خالی عہدوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے اور دیہی علاقوں میں جانوروں کے علاج کی سہولیات بہتر بنائی جائیں۔
اجلاس کے دوران اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ کئی دیہی علاقوں میں ویٹرنری اسپتالوں میں افرادی قوت اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے، جس کے باعث مویشی پالنے والوں کو بروقت علاج نہیں مل پاتا۔ کمیٹی نے اس معاملے میں ایک ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔
مردہ اور بیمار جانوروں کو اٹھانے کے لیے لفٹنگ کرینوں کی کمی کا مسئلہ بھی اجلاس میں زیر بحث آیا۔ اراکین نے کہا کہ مناسب مشینری نہ ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں مردہ جانوروں کو فوری طور پر نہیں ہٹایا جا رہا، جس سے ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اس پر انتظامیہ نے فوری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں جعلی دودھ کے بڑھتے ہوئے کاروبار کو عوامی صحت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی گئی۔ حکام نے کہا کہ ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔
کمیٹی اراکین نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل بھی اجلاس میں پیش کیے اور گرام سبھا میں محکمہ حیوانات کے نمائندوں کی موجودگی لازمی بنانے، نئے ویٹرنری اسپتال قائم کرنے اور مستحقین کے انتخاب میں شفافیت برقرار رکھنے پر زور دیا۔
