مغربی ایشیا میں مسلسل کشیدگی کے ماحول کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسرائیل اور لبنان نے اپنے درمیان جاری جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں وقتی سکون اور امن کی امید پیدا ہوئی ہے۔
یہ اہم فیصلہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ دونوں ممالک کے نمائندے مسلسل بات چیت میں مصروف رہے اور مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ مذاکرات کافی مثبت ثابت ہوئے اور دونوں فریقوں نے تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے پر اتفاق کیا۔ جنگ بندی کے ختم ہونے کا وقت قریب آ رہا تھا، جس کے باعث ایک بار پھر حالات خراب ہونے کے خدشات موجود تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہو جاتی تو خطے میں دوبارہ شدید کشیدگی پیدا ہو سکتی تھی۔ اسی خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاہدے میں مزید وقت شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اس پیش رفت کو اہم قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید مذاکرات ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اگرچہ جنگ بندی جاری ہے، لیکن زمینی صورتحال مکمل طور پر پرسکون نہیں رہی۔ بعض علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر جھڑپوں اور حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
لبنان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو حملے روکنے اور جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح ہونا چاہیے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق آنے والے چند ہفتے اس معاہدے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
