اترپردیش میں طوفانی موسم کا قہر برقرار، 23 ہلاکتیں، آئندہ دنوں میں مزید بارش اور آسمانی بجلی کا خدشہ
اترپردیش میں موسم نے اچانک خطرناک رخ اختیار کر لیا، جہاں تیز آندھی، موسلا دھار بارش اور آسمانی بجلی نے مختلف اضلاع میں تباہی مچا دی۔ ان واقعات میں اب تک 23 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ زیادہ تر اموات بجلی گرنے، درخت گرنے اور سڑک حادثات کے باعث ہوئیں۔
اودھ خطے میں پیر کی صبح اچانک خراب موسم نے کئی جانیں لے لیں۔ گونڈہ میں درخت گرنے اور حادثات کے باعث 4 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بلرام پور میں ایک ای رکشہ ڈرائیور درخت گرنے سے جان سے گیا۔ بہرائچ اور امبیڈکر نگر میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوانوں کی موت ہوئی۔
ریاست کے کئی اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس میں سنبھل میں سب سے زیادہ 130 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کاس گنج، بریلی، بارہ بنکی اور مراد آباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی اچھی خاصی بارش ہوئی۔ تیز ہواؤں کی رفتار 80 سے 85 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی اور موسم میں خنکی بڑھ گئی۔
محکمہ موسمیات نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے متعدد اضلاع میں اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ لکھنؤ کے علاقائی موسمیاتی مرکز کے مطابق آئندہ تین دنوں تک گرج چمک، تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ 5 سے 7 مئی کے دوران کئی علاقوں میں ژالہ باری کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور کھلی جگہوں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
