اترپردیش میں اچانک بدلے موسم نے جہاں شدید گرمی سے پریشان لوگوں کو کچھ راحت پہنچائی، وہیں کئی علاقوں میں یہ تبدیلی تباہی کا سبب بن گئی۔ تیز آندھی، موسلا دھار بارش، درخت گرنے اور آسمانی بجلی کے مختلف واقعات میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان اودھ خطے میں دیکھا گیا، جہاں 13 افراد کی موت کی اطلاع ہے۔ سلطان پور، ایودھیا، امیٹھی، پریاگ راج، غازی پور، وارانسی اور لکھنؤ سمیت 30 سے زائد اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور کئی مقامات پر ژالہ باری بھی ہوئی۔ کئی علاقوں میں درخت جڑ سے اکھڑ گئے، بجلی کے کھمبے گر گئے اور کچے مکانات منہدم ہو گئے۔
سلطان پور میں آندھی کی رفتار تقریباً 60 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث پوروانچل ایکسپریس وے کے ٹول پلازہ کی چھت بھی اڑ گئی۔ اس ضلع میں سب سے زیادہ 7 افراد کی موت ہوئی جبکہ 21 افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ ایودھیا اور امیٹھی میں دو، دو افراد جبکہ پریاگ راج اور غازی پور میں ایک، ایک شخص کی جان گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بنگال کی خلیج سے آنے والی نمی بھری ہواؤں کی وجہ سے موسم میں اچانک تبدیلی آئی ہے۔ پوروانچل، اودھ، بندیل کھنڈ اور برج علاقوں کے 58 اضلاع میں آندھی، بارش اور بجلی گرنے کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
ادھر باندہ ضلع مسلسل تیسرے دن ریاست کا سب سے گرم علاقہ رہا، جہاں درجہ حرارت 45.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی موسم اسی طرح غیر مستحکم رہ سکتا ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
