مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں بدھ کی رات ایک نہایت افسوسناک سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں کم از کم 16 مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 13 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ اندور-احمد آباد قومی شاہراہ پر چکلیا پھاٹا کے قریب اس وقت پیش آیا جب مزدوروں سے بھری ایک پِک اَپ گاڑی کا ٹائر اچانک پھٹ گیا۔
اطلاعات کے مطابق گاڑی تیز رفتاری سے جا رہی تھی کہ ٹائر پھٹنے کے بعد ڈرائیور کا کنٹرول ختم ہو گیا۔ بے قابو پِک اَپ ڈیوائیڈر توڑتے ہوئے مخالف سمت میں جا پہنچی اور سامنے سے آ رہی ایک اسکارپیو سے زور دار ٹکر ہو گئی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ گاڑی کئی بار پلٹ گئی، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی کئی افراد ہلاک ہو گئے۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق پِک اَپ میں تقریباً 50 مزدور سوار تھے، جو کام ختم کرکے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ گاڑی میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، جس نے حادثے کی شدت میں اضافہ کیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس، انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچ گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ سات شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے اندور ریفر کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔
اس المناک حادثے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم قومی راحت فنڈ سے مہلوکین کے اہل خانہ کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ریاستی حکومت کی جانب سے مہلوکین کے خاندانوں کو 4 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو 1 لاکھ روپے اور دیگر زخمیوں کو 50 ہزار روپے مالی مدد فراہم کی جائے گی۔
