’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کا ڈراؤنا کھیل! 3 خواتین کو 6 دن تک ذہنی قید میں رکھ کر لاکھوں کی لوٹ
نوئیڈا: ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کے بیچ ایک نہایت حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں جعلسازوں نے ہوشیاری سے تین خواتین کو اپنے جال میں پھنسا کر نہ صرف انہیں ذہنی طور پر مفلوج کر دیا بلکہ لاکھوں روپے بھی ہتھیا لیے۔
یہ واردات نوئیڈا کے سیکٹر 74 کی ایک رہائشی سوسائٹی میں پیش آئی، جہاں دو عمر رسیدہ خواتین اور ایک ایم بی بی ایس طالبہ کو ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کا خوف دکھا کر مسلسل 6 دن تک اپنے قابو میں رکھا گیا۔ جعلسازوں نے خود کو سرکاری افسر اور پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے خواتین کو سنگین مقدمات میں پھنسنے کا ڈر دکھایا، جس کے بعد وہ مکمل طور پر ان کے اشاروں پر چلنے لگیں۔
ذرائع کے مطابق، فون اور ویڈیو کالز کے ذریعے متاثرین کی ہر حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی۔ اس قدر دباؤ اور خوف پیدا کر دیا گیا کہ خواتین کسی سے مدد لینے یا بات کرنے کی ہمت بھی نہ کر سکیں۔ وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو گئیں اور خود کو واقعی کسی گرفتاری جیسی حالت میں محسوس کرنے لگیں۔
یہ معاملہ اس وقت بے نقاب ہوا جب پڑوسیوں کو شک ہوا کہ خواتین کئی دنوں سے اپنے فلیٹ سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ اطلاع ملنے پر سوسائٹی انتظامیہ اور سیکیورٹی عملہ موقع پر پہنچا۔ کافی دیر تک دروازہ نہ کھلنے پر جب اندر داخل ہوئے تو حیران کن منظر سامنے آیا، تینوں خواتین شدید خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا تھیں۔اس واقعے کا ایک اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ ایم بی بی ایس کی طالبہ بھی اس جال میں پھنسی رہی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ کالج جاتی تھی، مگر جعلساز اس کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ جب وہ گھر سے باہر ہوتی، تب بھی اس کی والدہ کو فون پر ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کے نام پر قابو میں رکھا جاتا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور متاثرین کو سمجھایا کہ ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ جیسی کوئی قانونی چیز موجود نہیں، بلکہ یہ سائبر دھوکہ دہی کا نیا طریقہ ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
یہ واقعہ ایک سخت انتباہ ہے کہ سائبر مجرم نت نئے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے کسی بھی مشکوک کال یا دھمکی آمیز پیغام پر فوراً متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔
