دہلی میں سرکاری ادویات کی بڑے پیمانے پر خرد برد بے نقاب، 70 لاکھ کا ذخیرہ ضبط، 5 گرفتار
نئی دہلی، 5 اپریل: دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے سرکاری اسپتالوں کے لیے مختص مفت ادویات کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث ایک منظم گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس کارروائی میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ تقریباً 70 لاکھ روپے مالیت کی ادویات اور دو گاڑیاں برآمد کر کے ضبط کر لی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر انجام دی گئی، جس کے تحت ٹیم نے راجندر بازار، تیس ہزاری کے قریب چھاپہ مار کر ملزمان کو اس وقت دھر لیا جب وہ بڑی مقدار میں ادویات ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کر رہے تھے۔ ضبط شدہ ادویات پر واضح طور پر درج تھا کہ یہ ’’صرف سرکاری سپلائی کے لیے ہیں، فروخت کے لیے نہیں‘‘، جس سے ان کی غیر قانونی اسمگلنگ کی تصدیق ہوتی ہے۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ یہ نیٹ ورک کافی عرصے سے سرگرم تھا اور اسپتالوں کے اندرونی ذرائع سے ادویات حاصل کر کے دلالوں کے ذریعے مختلف شہروں میں فروخت کی جا رہی تھیں۔ مزید پوچھ گچھ کے بعد اسپتال سے وابستہ دو مزید افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میں ایک فارماسسٹ اور ایک کنٹریکٹ ملازم شامل ہیں۔پولیس نے بتایا کہ برآمد شدہ ادویات میں مہنگی اینٹی بایوٹکس اور ایمرجنسی میں استعمال ہونے والی اہم دوائیں شامل ہیں، جو عام طور پر سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ ایک افسر کے مطابق تمام ضبط شدہ سامان کو کیس پراپرٹی کے طور پر تحویل میں لے لیا گیا ہے اور متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس ریکیٹ میں اسپتال عملہ، ٹرانسپورٹرز اور سپلائی چین سے جڑے دیگر افراد شامل ہیں، جو منظم طریقے سے سرکاری ادویات کو بازار میں پہنچا رہے تھے۔ پولیس اب اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان، مالی لین دین اور پورے آپریشن کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
