نئی دہلی (بیورو، 4 اپریل 2026):دہلی میں ایل پی جی سلنڈروں کی قلت کے پیش نظر حکومت نے پائپ سے فراہم کی جانے والی گیس (پی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کی مہم تیز کر دی ہے۔ محکمہ خوراک و رسد کے ایڈیشنل کمشنر ارون کمار جھا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جن علاقوں میں پی این جی کی سہولت دستیاب ہے، وہاں کے رہائشی بغیر تاخیر کنکشن حاصل کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد ہر گھر تک پی این جی پہنچانا ہے، اور جن علاقوں میں یہ سہولت موجود ہونے کے باوجود لوگ کنکشن نہیں لیتے، مستقبل میں ان کی ایل پی جی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں تیزی سے پائپ لائن کا جال بچھایا جا رہا ہے، اس لیے عوام کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ادھر حکومت نے گیس کی کالابازاری اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کے لیے بھی سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جبکہ دہلی پولیس اور آئل کمپنیاں مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ حالیہ کارروائی میں علی پور اور بوانا علاقوں سے تقریباً 100 سلنڈر ضبط کیے گئے۔
حکام کے مطابق دہلی میں گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، تاہم ترسیل میں تاخیر کے باعث صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گوداموں اور ایجنسیوں پر بوجھ بڑھنے کی وجہ سے سلنڈر کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
دہلی حکومت نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے 4 لاکھ نئے پی این جی کنکشن دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ شہر میں تقریباً 18 لاکھ گھروں تک پی این جی پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے، جن میں سے بڑی تعداد تک پائپ لائن پہلے ہی پہنچ چکی ہے، جبکہ باقی گھروں تک جلد رسائی کی کوشش جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا میں کشیدگی اور اہم سمندری راستوں سے گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث ملک میں ایل پی جی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں پی این جی کا استعمال بڑھانے سے نہ صرف سلنڈروں پر انحصار کم ہوگا بلکہ ان علاقوں میں بھی سپلائی بہتر ہو سکے گی جہاں ابھی پائپ گیس دستیاب نہیں ہے۔
