New Delhi, May 10 (ANI): Secretary, Ministry of External Affairs, Vikram Misri briefing the media on ‘Operation Sindoor’, in New Delhi on Saturday. (ANI Photo)
ہرمز بحران پر دنیا متوجہ، بھارت نے فوری راستہ کھولنے کا مطالبہ کیا
عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں 60 سے زائد ممالک کے اہم اجلاس میں بھارت نے دوٹوک انداز میں اس سمندری راستے کو فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ صرف توانائی کی ترسیل کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی بحری سلامتی اور انسانی جانوں سے جڑا حساس معاملہ ہے۔
برطانیہ کی میزبانی میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اس صورتحال کی سنگینی کو اس لیے بہتر طور پر سمجھتا ہے کیونکہ اس نے اس خطے میں اپنے ملاحوں کو کھویا ہے، جو ایک بڑا انسانی نقصان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ کشیدگی نہ صرف عالمی تجارت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ سمندری راستوں کو بھی غیر محفوظ بنا رہی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ تمام ممالک مل کر سفارتی راستہ اختیار کریں تاکہ صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے اور اس اہم گزرگاہ کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔وزارت خارجہ کے مطابق، آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس میں رکاوٹ آنے سے بھارت سمیت کئی ممالک کی توانائی ضروریات متاثر ہو رہی ہیں۔ خطے میں غیر یقینی حالات کے باعث کئی بحری جہاز خطرے میں ہیں اور کچھ اب بھی وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک کم از کم تین بھارتی ملاح اس علاقے میں اپنی جان گنوا چکے ہیں جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر آٹھ بھارتی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور ایک شخص اب بھی لاپتہ ہے۔حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری محفوظ ہیں اور تمام سفارت خانے اپنے شہریوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دوسری جانب بھارت نے ایران سے اپنے 204 شہریوں کو آذربائیجان کے راستے بحفاظت نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اور مزید شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
