واشنگٹن / 2 اپریل 2026:امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) نے خلائی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے اپنے اہم آرٹیمس-2 مشن کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے انسان کی چاند تک واپسی کی امیدوں کو ایک بار پھر تقویت دی ہے۔
یہ تاریخی مشن فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا، جہاں دیوہیکل اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ نے مقررہ وقت پر کامیابی سے پرواز بھری۔ اس مشن میں چار خلا باز جدید اورین اسپیس کرافٹ میں سوار ہو کر چاند کے قریب تک سفر کریں گے۔
آرٹیمس-2 دراصل لینڈنگ مشن نہیں بلکہ ایک تقریباً 10 دنوں پر مشتمل آزمائشی مہم ہے۔ اس دوران خلا باز چاند کے قریب تقریباً 9600 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ کر اس کے گرد چکر لگائیں گے اور پھر زمین کی طرف واپسی کریں گے۔
اس مشن کے ذریعے اورین کی گہرے خلا میں کارکردگی، لائف سپورٹ سسٹم، نیویگیشن، کمیونیکیشن اور ہیٹ شیلڈ جیسے اہم نظاموں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ واپسی کے وقت کیپسول تقریباً 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے ماحول میں داخل ہوگا، جو ایک بڑا تکنیکی امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔
We’re honored to welcome @Annewilsonmusic as our National Anthem performer for Artemis II.
As America prepares to send astronauts around the Moon for the first time in over 50 years, her voice will help open this historic moment.
— NASA (@NASA) April 1, 2026
یہ پیش رفت اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اپالو 17 مشن کے بعد پہلی بار انسان چاند کے اتنے قریب جا رہے ہیں۔ آرٹیمس پروگرام دراصل چاند پر انسان کی مستقل واپسی کی بنیاد رکھ رہا ہے، جس کے تحت آئندہ مرحلے میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔
The hatch is now closed.
The Artemis II astronauts are now strapped into their seats and ready for launch. pic.twitter.com/NWSjgklep9
— NASA (@NASA) April 1, 2026
ماہرین کے مطابق یہ مشن نہ صرف چاند بلکہ مستقبل میں مریخ تک انسانی رسائی کی تیاریوں میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نئی نسل کو خلائی سائنس کی جانب راغب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔مشن کے اختتام پر اورین کیپسول پیراشوٹ کے ذریعے بحرالکاہل میں لینڈ کرے گا۔ بلاشبہ، آرٹیمس-2 کی کامیاب لانچنگ پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، جو خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کی شروعات کی علامت بن چکا ہے۔
