بنگلہ دیش میں المناک حادثہ — عید سے واپسی پر بس پدما ندی میں گر گئی، متعدد ہلاکتیں، کئی افراد لاپتا
بنگلہ دیش میں عید کی خوشیاں ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو گئیں جب ڈھاکہ واپس جانے والی مسافر بس پدما ندی میں جا گری، جس کے نتیجے میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی اب بھی لاپتا ہیں۔یہ افسوسناک واقعہ بدھ کی شام تقریباً 5:15 بجے راجباری ضلع کے دولتدیا ٹرمینل پر پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس فیری پر سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک توازن بگڑنے کے باعث سیدھی ندی میں جا گری۔
At least 23 people have died and several are injured after a passenger bus plunged into the Padma River in #Bangladesh. Emergency services paused the search overnight due to poor visibility, but rescue efforts for the missing passengers will resume at daylight.
Pics: DDNews/X pic.twitter.com/3FAVVwlABq
— Deccan Chronicle (@DeccanChronicle) March 26, 2026
بتایا جاتا ہے کہ بس میں قریب 40 مسافر سوار تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ تمام افراد عید الفطر کی چھٹیاں گزار کر ڈھاکہ واپس جا رہے تھے کہ راستے میں یہ حادثہ پیش آ گیا۔ حادثے کے فوراً بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور امدادی کارروائیاں تیزی سے شروع کر دی گئیں۔ریسکیو ٹیموں کو خراب موسم اور مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم مسلسل چھ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد بس کو کرین کے ذریعے ندی سے باہر نکالا گیا۔ حکام کے مطابق بس کے اندر سے کئی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ غوطہ خوروں نے بھی مختلف مقامات سے مزید نعشیں نکالیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی مسافر اب بھی لاپتا ہیں۔
فوج، پولیس، فائر سروس اور کوسٹ گارڈ پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ کچھ خوش نصیب مسافر تیر کر باہر نکلنے یا بروقت بچائے جانے میں کامیاب رہے۔
#WATCH | Dhaka, Bangladesh: Visuals from the spot where a passenger bus fell into the Padma River from a ferry. https://t.co/dRHXTZuZr4 pic.twitter.com/5rnqSsR9vI
— ANI (@ANI) March 25, 2026
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک چھوٹی کشتی پونٹون سے ٹکرا گئی، جس کے باعث بس ڈرائیور کا کنٹرول ختم ہو گیا اور گاڑی ندی میں جا گری۔ اچانک پیش آنے والے اس واقعے نے مسافروں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ دیا۔مزید معلوم ہوا ہے کہ کئی مسافر ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جس کے باعث حادثے نے متعدد گھروں کو سوگوار کر دیا۔ جو افراد بس کے باہر موجود تھے وہ محفوظ رہے، مگر ان کے عزیز اندر ہی ڈوب گئے، جس سے جائے حادثہ پر انتہائی دردناک مناظر دیکھنے میں آئے۔واقعے کی سنگینی کے پیش نظر بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے فوری نوٹس لیتے ہوئے حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور حادثے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
