اورنگ آباد:شہر میں ان دنوں گھریلو اور کمرشیل گیس سلنڈروں کی فراہمی کو لے کر شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر گھریلو سلنڈروں کو غیر قانونی طور پر کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث بازار میں گیس کی مصنوعی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز میں کمرشیل سلنڈر کی جگہ گھریلو سلنڈر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جس کمرشیل سلنڈر کی سرکاری قیمت تقریباً 1980 روپے ہے، وہ بعض مقامات پر 2500 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ گھریلو سلنڈر بھی مبینہ طور پر زیادہ قیمت پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔
شکایت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ گیس ایجنسیوں سے سلنڈروں کی سپلائی کے دوران کچھ افراد کی ملی بھگت سے کالا بازاری کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض معاملات میں ادائیگی آن لائن ذرائع جیسے فون پے یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جانے کی بھی بات سامنے آئی ہے، تاکہ لین دین کو خفیہ رکھا جا سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈروں کی قلت کے باعث انہیں بار بار ایجنسیوں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، جس سے عام صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گھریلو سلنڈر کا کمرشیل استعمال نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ حفاظتی اعتبار سے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔مقامی افراد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کی جائے اور اگر کہیں بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عام صارفین کو گیس کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
